نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے ملک گیر سطح پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے چائلڈ پورنوگرافی کا بین الاقوامی نیٹ ورک بے نقاب کر دیا ہے اور مجموعی طور پر 42 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل ڈائریکٹر اسلام آباد سرکل محمد شعیب خان اور ڈپٹی ڈائریکٹر این سی سی آئی اے شہزاد اکبر کے مطابق انٹرنیشنل ایجنسیز کی معاونت سے ٹیلی گرام کے خفیہ گروپس میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے نازیبا ویڈیوز کی فروخت پر انکوائری کا آغاز کیا گیا۔ انکوائری کے دوران پاکستان کی تاریخ کا انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا انکشاف ہوا کہ اسکردو سے تعلق رکھنے والا ملزم (گینگ لیڈر) اپنے ہی 4 سے 5 سالہ معصوم بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنا کر کرپٹو کرنسی کے عوض بین الاقوامی گروپس میں فروخت کر رہا تھا۔ پولیس ٹیم نے کامیابی سے ملزم کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے موبائل فونز، لیپ ٹاپ، ڈیجیٹل شواہد اور کرپٹو ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ برآمد کر کے فرانزک کے لیے سیل کر دیا ہے۔
اسی سلسلے کی دوسری اہم کارروائی میں کراچی میں ہراسمنٹ سے تنگ آ کر خودکشی کی کوشش کرنے والی کمسن بچی کے واقعے پر این سی سی آئی اے نے فوری تحرک کا مظاہرہ کرتے ہوئے محض 13 گھنٹے کے اندر مرکزی ملزم کو ٹریس کر کے گرفتار کر لیا، جو گزشتہ 2 سے 3 سال سے بچی کو مسلسل ہراساں اور بلیک میل کر رہا تھا۔ اس کے علاوہ کراچی سے اینی میٹڈ پورنوگرافی میں ملوث 3 کمپنیوں کا نیٹ ورک بھی پکڑا گیا ہے جو امریکہ اور جرمنی میں کلائنٹس ڈھونڈنے میں ملوث تھا۔ تمام گرفتار ملزمان کے خلاف پیکا (PecA) ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر کے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔







