پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور دیگر اہم رہنمائوں کو مختلف نیب مقدمات اور انکوائریوں کا سامنا ہے، جن میں مراد سعید، سابق وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور، اعظم سواتی اور ڈاکٹر امجد علی کے نام شامل ہیں۔فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق ان تحقیقات میں مبینہ بے نامی جائیدادوں، اثاثوں، ذرائع آمدن، مالی معاملات اور سرکاری منصوبوں میں مبینہ بدعنوانی سے متعلق امور شامل ہیں۔تفصیلات کے مطابق 17اکتوبر 2026کو مراد سعید کے خلاف مبینہ بے نامی جائیدادوں، فرنٹ مین اور کاروباری سرمایہ کاری سے متعلق نیب انکوائری شروع کی گئی ہیں ۔انکوائری میں سوات میں 2020کے دوران اراضی کی خریداری اور ذرائع آمدن سے متعلق ریکارڈ بھی شامل بتایا گیا ہے۔فراہم کردہ معلومات کے مطابق 22ستمبر 2026کو علی امین گنڈاپور کو نیب کی جانب سے کال اپ نوٹس جاری کیا گیا، جس میں اثاثوں اور مالی معاملات سے متعلق ریکارڈ طلب کیے جانے کا ذکر ہے۔19جون 2025کو اپر کوہستان میں 30ارب روپے سے زائد کی مبینہ خوردبرد کے معاملے میں اعظم سواتی کو نیب نوٹس بھجوا دیا گیا تاہم اس معاملے میں ان کے خلاف الزامات کی نوعیت اور تحقیقات کی موجودہ صورتِ حال کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق 20 اکتوبر 2026 کو ڈاکٹر امجد علی کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں اور مبینہ بدعنوانی سے متعلق نیب انکوائری کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ اس سلسلے میں پانچ افراد کو طلب کیا گیا ہے ۔ان معاملات کے تناظر میں پی ٹی آئی کی قیادت کو مالی تحقیقات اور نیب نوٹسز کا سامنا ہے۔ تاہم انکوائری یا نوٹس جاری ہونا بذاتِ خود کسی الزام کے ثابت ہونے کا ثبوت نہیں، اور ہر معاملے میں متعلقہ افراد کا موقف اور قانونی کارروائی کی موجودہ حیثیت اہم ہے۔






