ممبر ایڈوائزری کونسل برائے محکمہ معدنیات ڈاکٹر سید سرفراز علی شاہ نے کہا ہے کہ محکمہ معدنیات میں میرٹ قانون کی بالادستی اور محکمانہ امور کی شفافیت اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔ اس حوالے سے ممبر ایڈوائزری کونسل کے دفتر سے محکمہ معدنیات کو باقاعدہ طور پر خط لکھا گیا ہے جس میں محکمہ معدنیات سے متعلق تمام امور کو میرٹ اور شفاف طریقے سے انجام دینے اور ممبر ایڈوائزری کونسل کے دفتر کے نوٹس میں لانے کے لئے واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں ۔خط کے متن میں سیکرٹری معدنیات کو محکمہ معدنیات میں شفافیت، میرٹ اور تمام امور کو قانون کے مطابق انجام دینے کے حوالے سے ہدایات دی گئی ہے ۔خط میں ہدایت کی گئی ہے کہ محکمہ معدنیات میں کسی بھی قسم کے تبادلے، تعیناتی یا ایڈیشنل چارج دینے سے قبل ممبر ایڈوائزری کونسل برائے معدنیات کے نوٹس میں لانے پر زور دیا گیا ہے۔ کسی بھی قسم کی لیز، لائسنس کا اجراء اور دوسرے منرل ٹائٹلز امور کو مائنز منرل ایکٹ 2017 کے قانون کے مطابق انجام دینے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ لائسنسنگ اتھارٹی، منرل ٹاٹلز کمیٹی، منرل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن اتھارٹی (MIFA) کو 2017 مائنز منرل ایکٹ کے عین مطابق امور انجام دینے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ منرل ٹائٹلز کمیٹی میٹنگ کا ایجنڈا تین دن پہلے ممبر ایڈوائزری کونسل برائے گورنر کے دفتر بیجھنے کی بھی ہدایت جاری کی گئی ہے جبکہ کسی بھی قسم کی، لیز، گرانٹ، رینیول، ایکسٹینشن ، ٹرانسفر، بحالی، کینسلیشن، جوائنٹ وینچر وغیرہ ممبر ایڈوائزری کونسل کے دفتر کے نوٹس میں لائے بغیر جاری نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ حط میں ہدایت کی گئی ہے کہ محکمہ معدنیات میں تمام تر امور کے حوالے سے کوئی بھی اقدام سے قبل ممبر ایڈوائزری کونسل کے آفس کو آن بورڈ لیا جائے گا جبکہ تمام تر زیر التوا امور اور کیسز کے حوالے سے فائلز 21 اکتوبر کو دفتر ممبر ایڈوائزری کونسل کو فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ خط میں کہا گیا ہے کہ یہ تمام اقدامات محکمہ معدنیات میں شفافیت، اور میرٹ کی بالادستی کی طرف ایک اہم قدام ثابت ہوگا، محکمہ معدنیات میں جزا اور سزا کا قانون ہوگا، ہر اس آفیسر کی حوصلہ افزائی ہوگی جو عوام کی فلاح اور ایمانداری سے فرائض نبھائے گا۔ اس حوالے سے ممبر ایڈوائزری کونسل برائے گورنر خیبر پختونخوا ڈاکٹر سید سرفراز علی شاہ نے کہا ہے کہ ہم نے اس صوبے کو معاشی طور پر خودکفیل بنانا ہے اور یہاں کے عوام کی فلاح و بہبود، خوشحالی اور ترقی کے لئے اقدامات اٹھانے ہیں۔







