ٹیسلا کی نئی روڈسٹر کششِ ثقل کو مات دینے کے لیے تیار، مگر خریداروں کو 2028 تک انتظار کرنا ہوگا

رپورٹ جنید خالد

امریکی برقی گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا نے اپنی نئی اسپورٹس کار روڈسٹر پیش کر دی ہے، جس نے گاڑیوں کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کمپنی کے مطابق، یہ گاڑی ہوا میں بلند ہونے، دورانِ پرواز مختلف حرکات کرنے اور دوبار

ہ اپنے پہیوں پر اترنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی تیاری میں خلائی تحقیق کی کمپنی اسپیس ایکس کی مہارت سے مدد لی گئی ہے۔ تاہم، اس حیران کن مظاہرے کے باوجود گاڑی کی باقاعدہ پیداوار 2028 سے پہلے شروع ہونے کی توقع نہیں۔

15 اکتوبر کو امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر میک گریگر میں واقع اسپیس ایکس کے مرکز میں پیش کی گئی اس گاڑی کو ایک الٹی ڈھلوان پر چڑھتے، پھر ہوا میں بلند ہوتے اور دورانِ پرواز ایک خاص حرکت مکمل کرتے دکھایا گیا۔ یہ مظاہرہ ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک کے اس تصور کی جھلک تھا جس کے تحت عام سڑکوں پر چلنے والی اسپورٹس کاروں کی روایتی حدود سے آگے بڑھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس گاڑی کے بنیادی نظام میں دباؤ کے تحت محفوظ کی گئی گیس سے چلنے والے خصوصی آلات شامل ہیں، جو گاڑی کو آگے یا اوپر کی جانب دھکیلنے کے لیے قوت پیدا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ایک ایسا نظام بھی زیرِ غور ہے جو کھنچاؤ پیدا کرکے گاڑی کو سڑک کے ساتھ جڑے رہنے میں مدد دے سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی اسپیس ایکس کے خلائی تجربات سے متاثر ہے، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ ان میں سے کون سی خصوصیات گاڑی کے حتمی تجارتی ماڈل میں شامل ہوں گی۔

ٹیسلا نے اس گاڑی کی رفتار اور کارکردگی کے حوالے سے بھی بڑے دعوے کیے ہیں۔ کمپنی کے مطابق، روڈسٹر صفر سے 60 میل فی گھنٹہ (تقریباً 97 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 230 میل فی گھنٹہ (تقریباً 370 کلومیٹر فی گھنٹہ) سے تجاوز کر سکتی ہے، جبکہ ایک مرتبہ مکمل چارج ہونے پر یہ 300 میل (تقریباً 483 کلومیٹر) سے زیادہ فاصلہ طے کر سکتی ہے۔ تاہم، ان اعداد و شمار کی معیاری
طریقوں کے تحت آزادانہ جانچ کے ذریعے تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔

اس گاڑی کی رونمائی ٹیسلا کی جانب سے دوسری نسل کی روڈسٹر کا پہلی بار اعلان کیے جانے کے تقریباً نو سال بعد ہوئی ہے۔ کمپنی نے نومبر 2017 میں اس گاڑی کا اعلان کیا تھا اور ابتدائی طور پر 2020 میں اس کی پیداوار شروع کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ لیکن بار بار تاخیر کے باعث یہ منصوبہ ٹیسلا کے طویل عرصے سے زیرِ تکمیل منصوبوں میں شامل ہو چکا ہے۔

2008 میں متعارف کرائی گئی پہلی روڈسٹر نے ٹیسلا کو گاڑیوں کی صنعت میں ایک سنجیدہ حریف کے طور پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس گاڑی نے ثابت کیا کہ بجلی سے چلنے والی گاڑی بھی اسپورٹس کار جیسی رفتار اور کارکردگی پیش کر سکتی ہے۔ نئی روڈسٹر اس کامیابی کو مزید آگے بڑھانے کا وعدہ کرتی ہے، جس میں زیادہ رفتار، طویل سفری صلاحیت اور تجرباتی ٹیکنالوجی کو یکجا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

تاہم، اس شاندار مظاہرے نے کارکردگی کے علاوہ کئی اہم سوالات بھی اٹھائے ہیں۔ گاڑی کو ہوا میں بلند کرنے کی صلاحیت کو عوامی سڑکوں پر استعمال کرنے سے پہلے حفاظت اور قانونی اجازت سے متعلق سخت تقاضوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ٹیسلا نے ابھی تک یہ ثابت نہیں کیا کہ یہ نظام روزمرہ کی ڈرائیونگ کے لیے محفوظ اور عملی ہے۔

کمپنی نے گاڑی کی حتمی قیمت اور صارفین کو اس کی فراہمی کے درست شیڈول سمیت کئی اہم تجارتی تفصیلات بھی واضح نہیں کیں۔

ٹیسلا کے لیے روڈسٹر محض ایک نئی اسپورٹس کار نہیں، بلکہ ایک اہم امتحان بھی ہے۔ کمپنی کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ایک غیر معمولی تکنیکی مظاہرے کو ایسی گاڑی میں تبدیل کر سکتی ہے جسے بڑے پیمانے پر تیار کرکے فروخت کیا جا سکے۔ یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب برسوں کی تاخیر نے اس منصوبے کی تکمیل پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

رونمائی کے دوران یہ گاڑی لمحاتی طور پر کششِ ثقل کو مات دیتی دکھائی دی، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ آیا ٹیسلا ان طویل تاخیروں پر بھی قابو پا سکے گی جنہوں نے اس کی روڈسٹر کو برسوں سے سڑکوں پر آنے سے روک رکھا ہے
۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed