جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے گورنرراج پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے معاملے کو سیاسی نعروں کے بجائے آئین، جمہوریت اور صوبائی خودمختاری کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، اس حکومتی فیصلے کا مقابلہ جمعیت علمائے اسلام کرے گی، انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبوں کو اپنے وسائل اور قانون سازی میں آئینی اختیار حاصل ہونا چاہیے۔ملتان میں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پاکستان ایک وفاق ہے اور تمام صوبوں کے آئینی حقوق کا تحفظ ضروری ہے، ان کے مطابق صوبوں کو اپنے وسائل اور قانون سازی کے معاملات میں آئینی اختیار حاصل ہونا چاہیے، تاہم ان اختیارات پر ماضی میں بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ اٹلسنقشے دیکھیںمولانا فضل الرحمن نے خیبر پختونخوا میں گورنرراج پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں جب بھی کسی صوبے میں گورنر راج نافذ ہوا، اس کے سیاسی اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔انہوں نے ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے بلوچستان میں گورنر راج اور مولانا مفتی محمود کے وزارتِ اعلی سے استعفے کا ذکر کیا، اور کہا کہ سیاسی جماعتوں کو جمہوریت اور آئینی بالادستی کے حوالے سے اپنے ماضی کے فیصلوں کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔جے یو آئی سربراہ نے دعوی کیا کہ گورنر راج کا مقابلہ جمعیت علمائے اسلام کرے گی۔ انہوں نے اس معاملے کو صوبائی خودمختاری اور جمہوری اصولوں سے جوڑتے ہوئے سیاسی اختلافات کے حل کے لیے آئینی طریقہ کار پر زور دیا۔مولانا نے اسلامی قانون سازی کے معاملے پر کہا کہ ان کے مطابق تمام مکاتبِ فکر کے درمیان اسلامی قوانین کے بنیادی نکات پر اتفاق موجود ہے، انہوں نے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر ان سفارشات پر اتفاق ہے تو شریعت کے مطابق قانون سازی میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟انہوں نے کہا کہ قراردادِ مقاصد، آئین کی اسلامی دفعات اور اسلامی قانون سازی سے متعلق امور پر مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان اتفاق رائے موجود ہے، ان کے بقول اسلامی نظام کے نفاذ میں اصل رکاوٹ مذہبی اختلافات کے بجائے سیاسی اور دنیاوی مفادات ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام قوانین قرآن و سنت کے تابع ہونے چاہئیں اور کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں ہونا چاہیے۔جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ ملک میں اداروں کے درمیان آئینی توازن برقرار رہنا چاہیے، کسی ایک قوت کے پاس غیر معمولی اختیارات کا ارتکاز نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت اداروں کے درمیان تصادم کے بجائے توازن کی حامی ہے اور سیاسی تبدیلی کے لیے پارلیمانی و جمہوری راستے پر یقین رکھتی ہے۔انہوں نے سیاسی احتجاج اور لانگ مارچ کے تناظر میں کہا کہ سیاسی مطالبات کا جواب لاٹھی اور گولی سے دینا مناسب نہیں، انہوں نے سوال اٹھایا کہ کسی سیاسی رہنما سے ملاقات یا علاج کے لیے ہسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ ریاستی طاقت کے استعمال کا جواز کیسے بن سکتا ہے؟ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کو مذاکرات اور جمہوری طریقوں سے حل کیا جانا چاہیے، انہوں نے حکمرانوں سے یہ بھی کہا کہ حکومت کو فیصلے کرنے میں آزاد ہونا چاہیے اور دبا کے تحت نظام چلانے سے گریز کیا جانا چاہیے







