پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے دلخراش اور المناک سانحے کے بعد قانونی حلقوں کی جانب سے دائر ہونے والی پٹیشنز کا سلسلہ جاری ہے۔ اب عثمان عالم ایڈووکیٹ نے بھی پشاور ہائیکورٹ میں ایک اور اہم آئینی درخواست دائر کر دی ہے، جس میں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، محکمہ تعلیم اور پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی (PSRA) کو فریق بنایا گیا ہے۔دائر کردہ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی سنگین غفلت اور نالائقی کے باعث نجی اسکول کی خستہ حال چھت گری، جس کے نتیجے میں ایک خاتون ٹیچر سمیت ۳۵ معصوم بچے شہید ہو چکے ہیں۔ پٹیشن میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت سمیت گلی محلوں اور کرائے کی غیر معیاری عمارتوں میں بغیر کسی چیک اینڈ بیلنس، چیکنگ اور اساتذہ کی مطلوبہ کوالیفیکیشن کے بغیر غیر رجسٹرڈ اسکول دندناتے پھر رہے ہیں، لیکن متعلقہ ریگولیٹری ادارے خوابِ خرگوش میں ہیں۔درخواست میں عدالتِ عالیہ سے پُر زور استدعا کی گئی ہے کہ اس ہولناک حادثے کی شفاف ترین تحقیقات کروا کر تمام ذمہ داران کا تعین کیا جائے، اور غفلت برتنے والے تمام سرکاری اداروں کے افسران و اسکول انتظامیہ کے خلاف سخت ترین قانونی و فوجداری کارروائی عمل میں لائی جائے۔







