خیبر پختون خوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے خلاف خیبرپختونخوا بار کونسل کی کال پر صوبہ بھر میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جبکہ انصاف لائرز فورم نے اختجاج کے طور پر ریلی بھی نکالی اور ہائیکورٹ کے سامنے مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر گورنر راج ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔خیبرپختون خوا بار کونسل اور پشاور ہائیکورٹ بار کی کال پشاور وکلاء نے پشاور سمیت صوبہ بھر میں عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور کوئی بھی وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوا جس کے باعث عدالتی امور بری طرح متاثر ہوئے ۔وکلاء نے آئین پاکستان کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق اقدامات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایمرجنسی کے نفاذ کو ایک غیر معمولی آئینی اقدام قرار دیا ہے بار کونسل مطابق آئین میں درج شرائط، قانونی تقاضوں اور مقررہ طریقہ کار کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔ آئینی اختیارات کو سیاسی اختلافات کی بنیاد پر منتخب صوبائی حکومت کو ختم کرنے یا عوامی مینڈیٹ کو غیر مؤثر بنانے کے لیے استعمال کرنا وفاقی ڈھانچے، پارلیمانی جمہوریت اور صوبائی خودمختاری کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے۔ وکلاء نے اس اقدام کو صوبائی خودمختاری پر شب خون مارنے کے مترادف قرار دیا اور واضح کیا کہ وکلاء برادری جمہوریت کی بحالی اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی اور خاموش تماشائی نہیں بنے گی۔ اس موقع پر انصاف لائرز فورم کے وکلاء نے پشاور ہائیکورٹ کے سامنے احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی۔ وکلاء نے گورنرراج نامنظور اور ایک ائین دو دستور کے نعرے لگائے ۔انہوں نے حکومت سے گورنر راج اور ایمرجنسی کے خاتمہ کا بھی مطالبہ ک







