تیمرگرہ میں سی اینڈ ڈبلیو دفتر پر گورنمنٹ کنٹریکٹر کا دھاوا’ تھوڑ پھوڑ

لوئر دیر،تیمرگرہ میں سی اینڈ ڈبلیو دفتر میں گورنمنٹ کنٹریکٹر کا ساتھیوں سمیت ایس ڈی ای او اور سب انجینئرز پر حملہ، دفتر میں تھوڑ پھوڑ،6ملزمان کی خلاف ایف ائی ار درج،پولیس کا ملزمان کی گرفتار ی کیلئے چھاپے،سرکاری اہلکاروں پر بہیمانہ تشدد اورملزمان کی عدم گرفتاری پر ضلع بھر میں تالہ بندی اور قلم چھوڑ ہڑتال کا الٹی میٹم،محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس (C&W) ہائی ویز کے دفتر تیمرگرہ میں گزشتہ روز اسلحہ کی نوک پر سرکاری اہلکاروں کو زدوکوب کرنے، دفتر میں توڑپھوڑ اور خوف و ہراس پھیلانے کے خلاف سرکاری ملازمین سراپا احتجاج بن گئے۔دوسری جانب ایکسئین سی اینڈ ڈبلیو ہائی ویز صالح دار،اگیگا، سب انجینئرز اور ملازمین کے ہمراہ گورنمنٹ کنٹریکٹر کی ایس ڈی او سجاد علی، سب انجینئرز فضل الرحمن اور سلیمان پر گورنمنٹ کنٹریکٹر کے سرکاری دفتر میں حملے کو کھلی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر مسلح ملزمان کو فوری گرفتار نہ کیا گیا تو ضلع بھر کے تمام سرکاری دفاتر میں قلم چھوڑ اور تالہ بند ہڑتال کر دی جائے گی۔ایکسئین سی اینڈ ڈبلیو ہائی ویز لوئر دیرصالح دار خان نے آل گورنمنٹ ایمپلائیز کوآرڈینیشن کونسل (آگیگا) لوئر دیر کے چیئرمین عالمگیر اور سب انجینئر ایسوسی ایشن کے رہنما سخاوت شاہ سمیت محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کا تمام سٹاف کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں کو تفصیلات بتاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ گورنمنٹ کنٹریکٹرحمیداللہ نے اپنے دیگر مسلح ساتھیوں کے ہمراہ دن دہاڑے دفتر پر دھاوا بول دیا۔ملزمان نے انتہائی دیدہ دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈیوٹی پر موجود ایس ڈی او (SDO) اور دیگر دفتری عملے کو اسلحہ کی نوک پر یرغمال بنایا اور انہیں شدید زدوکوب کیا۔انہوں نے کہا کہ سرکاری فرائض کی انجام دہی کے دوران اہلکاروں پر اسلحہ تاننا اور ان پر بہیمانہ تشدد کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، دفتر کے اندر ایسا اقدام ریاست کی عملداری پر براہ راست حملہ اور کھلی دہشت گردی ہے۔سرکاری ملازمین کے رہنماں نے مشترکہ طور پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام کو دو ٹوک الٹی میٹم دیا ہے کہ ملازمین کی عزت اور تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اگر اسلحہ لہرانے والے خطاکار عناصر اور کنٹریکٹر کو فی الفور ہتھکڑیاں نہ پہنائی گئیں، تو ضلع بھر کے تمام محکموں کے سرکاری ملازمین اپنے دفاتر اور سکولوں کو تالے لگانے اور کام مکمل طور پر بند (Pen-down Strike) کرنے پر مجبور ہو جائیں گے، جس کے بعد پیدا ہونے والے سنگین بحران کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔میڈیا سے گفتگو کے بعد مشتعل سرکاری سٹاف اور دیگر تنظیموں کے عہدیداروں نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ شرکا نے مسلح غنڈہ گردی کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور اعلی حکام سے پرزور مطالبہ کیا کہ سرکاری ملازمین کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے اور قانون کی دھجیاں اڑانے والے ملزمان کو فوری طور پر سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed