پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ سنگین تحفظات کے باوجود حکومت کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہیں، پاکستان کی خاطر سیاسی قوتوں کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہوگا۔ ویڈیو بیان میں انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو ملک کی ترقی کے خلاف قرار دینا نامناسب ہے،پی ٹی آئی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے خلاف نہیں ہے، ہمارا ایک نکاتی ایجنڈا ہے، پاکستان جیتے اور پاکستان ترقی کرے۔ سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کے امن کے مطالبے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، آل پارٹیز کانفرنس بلا رہے ہیں، پہلا ایجنڈا امن و امان اور بنیادی انسانی حقوق ہونا چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ سیاسی قیدیوں کی رہائی اور آئین و قانون کی بالادستی ضروری ہے، ہمارا مینڈیٹ چھینا گیا اور بنیادی آئینی حقوق سلب کیے گئے، کیا ہر شہری کو اپنا لیڈر منتخب کرنے کا آئینی حق حاصل نہیں؟ اسد قیصر نے کہا کہ میاں نواز شریف صاحب نے خود ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا تھا، پی ٹی آئی کے بنیادی آئینی و انسانی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں، بانی پی ٹی آئی، ان کی اہلیہ، بہنوں اور خاندان کو سیاسی مقدمات کا سامنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ 2 ہزار سے زائد پی ٹی آئی کارکنان جیلوں میں ہیں، خیبر پختونخوا کو درپیش امن و امان کے سنگین مسئلے پر وفاق اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے متفقہ جرگے کی آواز سنی جائے، تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے امن کے لیے مشترکہ لائحہ عمل ضروری ہے، پاکستان کے لیے ہر فورم پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ اسد قیصر نے کہا صوبائی چیف ایگزیکٹو کے اختیارات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، پولیس میں ٹرانسفر پوسٹنگز صوبائی حکومت سے مشاورت کے بغیر کیوں ہو رہی ہیں؟ صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے آئینی اختیار کا احترام کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا میں پولیس قوانین میں فرق کیوں ہے؟ وزرا، ایم پی ایز اور ایم این ایز کے قانونی حقوق کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اسد قیصر نے کہا کہ آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے، ہمارے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہو رہے ہیں پھر بھی پاکستان کی خاطر مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا احتجاج پرامن ہے، پرامن رہے گا، قانون ہاتھ میں نہیں لیا جائے گا، گورنر راج کی دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے، اگر صوبائی حکومت کے آئینی اختیارات محدود کیے گئے تو پارلیمانی نظام متاثر ہوگا۔اسد قیصر نے کہا حکومت ہمارے جائز آئینی و قانونی مطالبات پر بات کرے، مطالبات تسلیم ہونے تک پرامن احتجاج ہمارا آئینی و قانونی حق ہے







