رپورٹ: پاکستانی جیلوں میں 73 فیصد قیدی زیرِ سماعت

لاہور: ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان کی جیلوں میں قید افراد کی بڑی تعداد تاحال کسی جرم میں سزا یافتہ نہیں بلکہ اپنے مقدمات کے فیصلوں کی منتظر ہے۔

ایچ آر سی پی کی رپورٹ ’’جیل کی دیواروں سے باہر، پاکستان کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کے مسئلے کا حل‘‘ کے مطابق 2024 میں ملک بھر کی جیلوں میں 73 فیصد سے زائد قیدی زیرِ سماعت تھے، جبکہ جیلیں اپنی مجموعی گنجائش کے 152 فیصد تک بھری ہوئی تھیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیرِ سماعت قیدیوں کا تناسب 2017 میں 66 فیصد تھا، جو 2024 میں بڑھ کر 73.41 فیصد ہوگیا۔ ایچ آر سی پی کے مطابق جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی بنیادی وجہ جیلوں کی کمی نہیں بلکہ نظامِ انصاف میں موجود خامیاں ہیں۔

ان خامیوں میں مقدمات اور تحقیقات میں تاخیر، ضمانت کے غیر مؤثر نظام اور مقدمے سے قبل حراست کا زیادہ استعمال شامل ہیں۔

پنجاب میں صورتحال مزید سنگین قرار دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ستمبر 2026 میں صوبے کی 45 جیلوں میں 74 ہزار 773 قیدی موجود تھے، جبکہ ان جیلوں کی مجموعی گنجائش 39 ہزار 204 تھی۔ اس طرح پنجاب کی جیلیں اپنی گنجائش کے تقریباً 191 فیصد پر کام کر رہی تھیں۔

پنجاب کی جیلوں میں موجود قیدیوں میں سے 54 ہزار 932 زیرِ سماعت تھے۔ رپورٹ کے مطابق صوبے میں گزشتہ برسوں کے دوران نئی جیلیں، بیرکس اور دیگر سہولیات تعمیر کیے جانے کے باوجود گنجائش سے زیادہ قیدیوں کا مسئلہ برقرار ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف مزید جیلیں تعمیر کرنا اس مسئلے کا مستقل حل نہیں۔

ایچ آر سی پی نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضمانت کے قوانین میں اصلاحات کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ کسی شخص کو مقدمے سے قبل جیل میں رکھنے کی ضرورت ثابت کرنے کی ذمہ داری پولیس اور پراسیکیوشن پر عائد کی جائے۔

ایسے جرائم میں مقدمے سے قبل حراست ختم کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے جن میں مختصر مدت کی سزا ہوتی ہے، جبکہ ذاتی مچلکے اور نگرانی جیسے متبادل طریقے اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر کوئی مقدمہ قانونی مدت سے زیادہ عرصے تک زیرِ التوا رہے تو ضمانت کو ملزم کا حق بنایا جائے۔ ضمانت کے مرحلے پر ملزم کو اپنے خلاف موجود شواہد تک رسائی دینے اور ایسے مقدمات ختم کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے جن میں سزا ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوں۔

ایچ آر سی پی نے پراسیکیوشن کو آزاد بنانے، غلط طور پر جیل میں گزارے گئے وقت کے معاوضے کا قانونی حق دینے اور پروبیشن و پیرول کے نظام کو مؤثر بنانے کی سفارش بھی کی ہے۔

رپورٹ میں جیلوں کے اعدادوشمار باقاعدگی سے عوام کے سامنے لانے اور جیلوں کی نگرانی کے لیے ایک آزاد ادارہ قائم کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

ایچ آر سی پی کے مطابق جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونا محض جگہ کی کمی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے باعث بیماریوں، تشدد اور غیر انسانی حالات کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اس صورتحال سے ایسے افراد کے قیمتی سال ضائع ہونے کا خدشہ بھی رہتا ہے جو ممکنہ طور پر بے گناہ ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed