لوئر دیر کے علاقے آدینزئی کی دور افتادہ یونین کونسلوں اسبنڑ اور خانیور کے مختلف دیہاتوں بریمکی، شادم اور شوڑشنگ میں پراسرار بخار کی وبا سے تباہی مچ گئی ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اس پراسرار مرض سے ۴ خواتین، ۳ بچوں اور ۲ جوانوں سمیت ۱۰ سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ درجنوں دیگر مریضوں کی حالت غیر ہونے پر انہیں علاج کے لیے پشاور، سوات اور دیگر علاقوں کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اس بخار کی وجہ سے مریضوں کو سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے اور ان کے خون میں سفید خلیات یعنی وائٹ بلڈ سیلز کی شدید کمی ہو جاتی ہے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق یہ مرض ہر سال اس علاقے میں پھیلتا ہے مگر حکومتی اور طبی سطح پر مستقل اور مؤثر اقدامات نہ ہونے کے باعث شہریوں میں شدید تشویش و اضطراب پایا جاتا ہے۔
دوسری جانب ڈی ایچ او لوئر دیر کا بتانا ہے کہ دو متاثرہ نوجوان گردن توڑ بخار کے باعث پشاور کے ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ محکمہ صحت لوئر دیر اور پشاور کی مشترکہ ٹیموں نے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیا ہے۔ ڈی ایچ او کے مطابق ابتدائی معلومات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ فیبرایل بیماری ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ انسداد کے لیے ملیریا اور ڈینگی کا اسپرے کر دیا گیا ہے اور محکمہ لائیو اسٹاک کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور ڈی سی بشارت احمد کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی ہدایت پر متاثرہ علاقوں میں فری میڈیکل کیمپ قائم کر دیا گیا ہے، جہاں سینکڑوں مریضوں کا طبی معائنہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تشخیص کے لیے خون کے نمونے بھی حاصل کیے گئے ہیں۔







