خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر فضل شکور خان کے مبینہ اغوا کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ یہ آئینی درخواست صوبائی وزیر کے بھائی نے بشیر خان وزیر ایڈووکیٹ کی وساطت سے جمع کرائی، جس میں آئی جی پی خیبرپختونخوا، سی سی پی او پشاور، اور ایس ایس پی آپریشنز سمیت دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ صوبائی وزیر فضل شکور خان موٹروے ٹول پلازہ کے ذریعے پشاور میں داخل ہو رہے تھے کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر کے ٹائر برسٹ کر دیے اور انہیں دن دہاڑے گاڑی سے نکال کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ صوبائی وزیر کا اس طرح مبینہ طور پر اغوا ہونا امن و امان کی صورتحال پر شدید سوالیہ نشان اور انتہائی تشویشناک امر ہے۔درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ لاپتہ صوبائی وزیر کو فوری طور پر بحفاظت بازیاب کرانے کا حکم دیا جائے اور اگر وہ کسی ادارے کی غیر قانونی حراست میں ہیں تو ان کی پیشی یقینی بنائی جائے۔ مزید برآں، ہائیکورٹ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئی جی اور سی سی پی او پشاور کو اعلیٰ افسران پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی جائے تاکہ واقعے کی شفاف انکوائری مکمل کی جا سکے۔







