اسسٹنٹ پروفیسر ڈیزاسٹر مینجمنٹ کیلئے امیدوار کا کیس دوبارہ زیر غور لانے کاحکم

پشاورہائیکورٹ نے پشاوریونیورسٹی میں گریڈ 19کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی آسامیوں پر غیرمتعلقہ امیدواروں کو اہل قراردینے اور ان کی ممکنہ بھرتیوں کیخلاف دائر رٹ پٹیشن پر یونیورسٹی آف پشاور انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ مذکورہ پوسٹ پرتعلیمی اہلیت کے باوجود نظرانداز کیے گئے امیدوار کا کیس سینڈیکیٹ کے آئندہ اجلاس میں زیرغور لاکر فیصلہ کیا جائے۔ جسٹس وقار احمد کی سربراہی میں قائم بنچ نے ڈاکٹر شاہد اقبال کی رٹ پر سماعت کی۔ ان کے وکیل جہانزیب محسود نے بتایاکہ ڈاکٹر شاہد اقبال اس وقت پشاوریونیورسٹی میں ڈائریکٹوریٹ آف ایڈمیشن میں ڈیلنگ اسسٹنٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یونیورسٹی نے سنٹر فار ڈیزاسٹرپری پیئریڈنیس مینجمنٹ میں اسسٹنٹ پروفیسر کی آسامیاں مشتہر کیں جس کیلئے درخواست گزار نے بھی ایپلائی کیا اورانٹرویو میں پیش ہوا تاہم ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں پی ایچ ڈی کیساتھ ساتھ متعلقہ تجربہ واہلیت رکھنے کے باوجود اسے نظرانداز کرکے دوسرے شعبوں میں پی ایچ ڈی کرنے والے امیدواروں کو فوقیت دی گئی اورسکروٹنی و انٹرویو کے دوران انہیں زیادہ نمبردیئے گئے جبکہ درخواست گزار کو متعلقہ شعبے میں پی ایچ ڈی و اہلیت کے نمبرز نہیں دیئے گئے جس کیوجہ سے اسے بھرتی مرحلے سے ڈراپ کیا گیا۔ اس دوران انہیں سلیکشن بورڈ کی جانب سے ای میل کے ذریعے مطلع کیا گیا ہے کہ 24جون اور 17جولائی 2026کے اجلاسوں میں ان کا اجلاس زیرغور لایا گیاتاہم ان کی استدعا رد کردی گئی جس کیخلاف ہائیکورٹ میں رٹ دائر کی گئی۔ وکیل نے عدالت سے سلیکشن پراسیس روکنے اور یونیورسٹی سے متعلقہ بھرتی مرحلے کا تمام ریکارڈ بھی پیش کرنے کی استدعا کی گئی۔ عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر قراردیاکہ متعلقہ امیدواروں کی پی ایچ ڈی متعلقہ شعبے میں نہیں ہے جبکہ اس ضمن میں ہائیکورٹ پہلے بھی ایک رٹ پٹیشن نمٹا چکی ہے۔ عدالت نے یونیورسٹی حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ درخواست گزار کا کیس سنڈیکیٹ کے آئندہ اجلاس میں زیرغورلاکر میرٹ اور قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed