انڈونیشیا میں آتش فشاں اناک کراکاٹوا کے دوبارہ پھٹنے کے بعد فضائی سفر بری طرح متاثر ہو گیا، جہاں آتش فشانی راکھ فضا میں پھیلنے کے باعث دارالحکومت جکارتہ کے مرکزی ہوائی اڈے سمیت 7 ایئرپورٹس پر پروازوں کی آمد و رفت معطل کردی گئی۔ حکام کے مطابق اس صورتِ حال سے تقریبا 2 لاکھ 70 ہزار مسافر متاثر ہوئے ہیں، جبکہ 2300 سے زیادہ پروازیں تاخیر یا منسوخی کا شکار ہوئی ہیں۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق اناک کراکاٹوا جاوا اور سماٹرا جزائر کے درمیان واقع ہے۔ جمعے کی رات آتش فشاں پھٹنے کے بعد اس سے نکلنے والی راکھ جکارتہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں تک پہنچ گئی، جس کے بعد مسافروں کی حفاظت کے پیش نظر متعدد ہوائی اڈوں پر فضائی آپریشن معطل کردیا گیا۔انڈونیشیا کے وزیرِ ٹرانسپورٹ ڈوڈی پورواگاندھی نے پیر کو بتایا کہ جکارتہ کا مرکزی سوئیکارنو ہٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے تک بند رہے گا۔ اس کے ساتھ مزید 6 ایئرپورٹس بھی بند رکھے گئے ہیں، جبکہ جنوبی سماٹرا کا ایک ہوائی اڈہ دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔وزیرِ ٹرانسپورٹ نے کہا کہ موسم کی صورتِ حال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے، اس لیے یہ کہنا ممکن نہیں کہ پروازوں کا معمول کب مکمل طور پر بحال ہوگا۔فضائی سفر میں رکاوٹ کے باعث جکارتہ کے مرکزی ایئرپورٹ پر مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ پیر کی صبح متعدد مسافر معلوماتی اسکرینوں پر اپنی پروازوں کی تازہ صورتحال تلاش کرتے رہے، جبکہ کچھ مسافروں کو ایئرپورٹ کی نشستوں پر سوتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔اسپین کے شہری 24 سالہ کارلوس زبالا بھی متاثر ہونے والے مسافروں میں شامل تھے۔ چھٹیاں گزارنے کے بعد اپنے وطن واپس جانے والے زبالا کو بتایا گیا کہ ان کی پرواز بار بار تاخیر کا شکار ہورہی ہے۔ انہوں نے صورتحال پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسافروں کے پاس انتظار کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ماہرین کے مطابق آتش فشانی راکھ کا طیاروں کے لیے خطرہ معمولی نہیں ہوتا۔ معروف آتش فشاں ماہر سورونو نے رائٹرز کو بتایا کہ تیز ہوائیں اور خشک موسم راکھ کو مختلف سمتوں میں پھیلا رہے ہیں۔ اس راکھ میں سلفر اور سلیکا جیسے ذرات شامل ہوتے ہیں جو طیاروں کے انجنوں کے لیے خطرناک ہوسکتے ہیں۔سورونو کے مطابق اناک کراکاٹوا کی حالیہ سرگرمی معمول سے مختلف نوعیت کی رہی ہے۔ آتش فشاں کی نگرانی کرنے والے ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق تازہ ترین آتش فشاں اتوار کی رات 8 بج کر 23 منٹ پر ریکارڈ کیا گیا۔ ادارے نے پیر کو خبردار کیا کہ آنے والے دنوں میں مزید آتش فشاں پھٹنے کا امکان بدستور زیادہ ہے۔انڈونیشیا کی موسمیاتی ایجنسی بی ایم کے جی کے مطابق آتش فشاں سے اٹھنے والی راکھ کے بادل جاوا کی جانب تقریبا 6 ہزار میٹر اور سماٹرا کی جانب بعض علاقوں میں 15 ہزار میٹر تک بلند ہوئے۔ راکھ کے ان بادلوں کی موجودگی نے فضائی راستوں کو بہت غیر محفوظ کردیا اور مزید احتیاط کی ضرورت پیدا کردی ہے۔حکام نے شہریوں کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اتوار کو ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام نے لوگوں سے کہا کہ وہ باہر نکلتے وقت ماسک پہنیں تاکہ آتش فشانی راکھ اور دھواں سانس کے ذریعے اندر جانے سے روکا جاسکے۔ جکارتہ اور لامپونگ میں طلبہ کو راکھ سے پیدا ہونے والے ممکنہ صحت کے خطرات سے بچانے کے لیے تعلیمی سرگرمیاں آن لائن منتقل کردی گئی ہیں۔اناک کراکاٹوا انڈونیشیا کے تقریبا 130 فعال آتش فشاں میں شامل ہے۔ انڈونیشیا بحرالکاہل کے رِنگ آف فائر میں واقع ہے، جہاں زمین کی مختلف ٹیکٹونک پلیٹیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔ اسی وجہ سے اس خطے میں زلزلوں اور آتش فشانی سرگرمیوں کا خطرہ نسبتا زیادہ رہتا ہے۔اناک کراکاٹوا کا مطلب کراکاٹوا کا بچہ ہے۔ یہ تقریبا ایک صدی قبل اس مقام پر ابھرنا شروع ہوا جہاں پرانا کراکاٹوا آتش فشاں موجود تھا۔ 1883 میں کراکاٹوا کے انتہائی طاقتور دھماکوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی اور اس کے نتیجے میں آنے والی سونامیوں سمیت مختلف واقعات میں 36 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔اناک کراکاٹوا سے 2018 میں آنے والی سونامی بھی 400 سے زیادہ افراد کی جان لے چکی ہے۔ اسی ماضی کے باعث موجودہ آتش فشانی سرگرمی پر حکام خاص طور پر نظر رکھے ہوئے ہیں، اگرچہ تازہ صورتِ حال میں فوری سونامی کے خطرے کے حوالے سے کوئی نئی وارننگ سامنے نہیں آئی۔فی الحال حکام آتش فشاں کی سرگرمی، راکھ کے پھیلا اور موسم کی صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ فضائی آپریشن اسی وقت مکمل طور پر بحال کیے جائیں گے جب متعلقہ ادارے متاثرہ فضائی حدود کو طیاروں کے لیے محفوظ قرار دیں گے۔







