انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو نے مبینہ فون ٹیپنگ اور غداری کے خدشات کے پیشِ نظر اپنے چیف آف اسٹاف لیستیو سیگت پرابووو کو عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔ ترجمان صدارت پرستیئو ہادی کے مطابق، چیف آف اسٹاف کی جانب سے کی جانے والی سرگرمیاں ریاستی مفادات، قومی سلامتی اور صدر کی حفاظت کے لیے بڑا خطرہ تھیں، جنہیں غداری کے زمرے میں شمار کیا جا سکتا ہے۔
پولیس نے چیف آف اسٹاف کے علاوہ دیگر 2 سینئر پولیس افسران، اہرِی سونتا ناسوتیون اور ایکو ہادی سانتوسو کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔ ان شخصیات پر الزام ہے کہ انہوں نے 2025 سے رواں سال تک صدر مملکت، کابینہ اراکین، سیاستدانوں، صحافیوں، کاروباری شخصیات اور سماجی تنظیموں کے فون غیر قانونی طور پر ٹیپ کیے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے کسی باضابطہ درخواست کے بغیر فون ٹیپ کیے اور اپنی نگرانی کی سرگرمیوں سے متعلق الیکٹرانک ریکارڈ بھی حذف کرنے کا حکم دیا تھا۔
وفاقی وزیر برائے قانونی امور یسرل احضا مہندرا نے بتایا کہ قومی پولیس کے موجودہ سربراہ سویودی آریو سیتو کی براہِ راست رپورٹ ملنے کے بعد صدر کو اس جاسوسی منصوبے کا علم ہوا۔ انہوں نے اسے ریاست کے لیے ایک سنگین فوجداری جرم قرار دیتے ہوئے سخت ترین قانونی کارروائی کا یقین دلایا ہے۔ یہ سیاسی بحران ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر پرابووو کو معاشی تنزلی، کرنسی کی قدر میں کمی اور عوامی عدم اطمینان کی وجہ سے شدید سیاسی اور معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔







