بنوں امن کمیٹی کیس،آر پی او بنوں اگلی سماعت پر طلب

پشاور ہائیکورٹ نے بنوں امن کمیٹی کے خلاف اور ایک شہری کی مبینہ گمشدگی سے متعلق دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) بنوں کو آئندہ سماعت پر ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت عالیہ کے چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کیس کی سماعت کی اور انتظامی و پولیس حکام سے معاملے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 16 نومبر تک ملتوی کر دی۔دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 15 سالہ رحیم اللہ اور اس کے بڑے بھائی شمال خان کو بنوں امن کمیٹی کے اہلکاروں نے حراست میں لیا تھا، جن میں سے کم عمر رحیم اللہ کو دو روز قبل رہا کر دیا گیا جبکہ شمال خان تاحال لاپتا ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ 15 سالہ بچے کے خلاف کیا الزامات تھے اور ایک کم عمر بچہ دہشت گردی میں کیسے ملوث ہو سکتا ہے؟ فاضل عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی پوچھا کہ بنوں امن کمیٹی کس نے قائم کی اور اسے شہریوں کو اٹھانے کا اختیار کس نے دیا؟سماعت کے دوران ایس پی رورل بنوں شکیل خان نے عدالت کو بتایا کہ علاقے میں سیکیورٹی صورتحال خراب ہونے کی وجہ سے پولیس نے خود امن کمیٹی قائم کی ہے، تاہم شمال خان پولیس کی تحویل میں نہیں ہے۔ انہوں نے علاقے میں جاری آپریشنز کا حوالہ دیتے ہوئے مزید وقت دینے کی استدعا کی۔ عدالت عالیہ نے آر پی او بنوں کو اگلی سماعت پر ہر صورت پیش ہونے کی ہدایت کی ہے تاکہ معاملے کی مکمل اور شفاف رپورٹ سامنے آ سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed