مشیر برائے گورنر خیبرپختونخوا برائے اوقاف و مذہبی امور مولانا محمد طیب قریشی کی زیرِ صدارت محکمہ اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور کا تعارفی اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ کی کارکردگی، جاری منصوبوں اور مستقبل کے اہداف کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں سیکرٹری اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور محمد ادریس خان، ایڈیشنل سیکرٹری حبیب خان آفریدی، ڈپٹی سیکرٹری اوقاف، ایڈمنسٹریٹر اوقاف اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ شرکاء کو محکمہ کی ادارہ جاتی ساخت، مروجہ قوانین، انتظامی امور اور جاری سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کے دوران اقلیتی برادری کی فلاح و بہبود، تعلیمی وظائف، مالی معاونت، استعداد کار بڑھانے کے منصوبوں اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مولانا محمد طیب قریشی نے ہدایت کی کہ اقلیتی برادری کے فلاحی منصوبوں پر ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جائے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے خصوصی ہیلپ ڈیسک قائم کیا جائے۔
انہوں نے مساجد اور اقلیتی برادری کی عبادت گاہوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے اقدامات کی بھی ہدایت کی تاکہ توانائی کے اخراجات میں کمی اور سہولیات میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اقلیتی برادری کے لیے تعلیمی وظائف، مقابلے کے امتحانات کی تیاری کے تربیتی پروگرام، انڈومنٹ فنڈز اور دیگر فلاحی منصوبوں پر کام جاری ہے، جبکہ مذہبی رہنماؤں کو ماہانہ اعزازیہ بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔
مولانا طیب قریشی نے دینی مدارس کے طلبہ و طالبات کو لیپ ٹاپ فراہم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی تک رسائی سے طلبہ کے لیے تعلیم اور تحقیق کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
اجلاس میں محکمہ اوقاف کی جائیدادوں کی صورتحال، آمدن اور انتظامی امور پر بھی بریفنگ دی گئی۔ مشیر برائے اوقاف نے اوقاف املاک کے تحفظ، غیر قانونی قبضوں کے خاتمے، شفاف انتظام اور آمدن میں اضافے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔







