پشاور ہائیکورٹ نے اضاخیل نیشنل ریزرو سینٹر کے مین گودام میں ۲۰۰۴ء / ۲۰۲۴ء سے پڑی ۲۸ ہزار میٹرک ٹن سے زائد سرکاری گندم کی نیلامی و فروخت کا حکم دیتے ہوئے اسے فوری ریلیز کرنے کی اجازت دیدی ہے۔ عدالت نے حکومت کو سخت تاکید کی ہے کہ فروخت کی جانے والی تمام گندم کا باقاعدہ اور شفاف ریکارڈ مرتب کیا جائے۔
جسٹس اعجاز صابی پر مشتمل ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت عالیہ کو بتایا گیا کہ صوبائی محکمہ خوراک کے اضاخیل مین گودام سے ۱۹ کروڑ روپے سے زائد مالیت کی گندم خرد برد کی گئی تھی، جس پر اینٹی کرپشن نے تحقیقات کے بعد ۶ ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ اینٹی کرپشن کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر تین ملزمان کو ۷، ۷ سال قید اور ۱۰، ۱۰ لاکھ روپے جرمانے کی سزائیں سنائیں، دو کو بری کیا جبکہ ایک ملزم تاحال مفرور ہے۔ فیصلے کے خلاف فریقین نے ہائیکورٹ میں اپیلیں دائر کر رکھی ہیں۔
حکومتی و محکمہ خوراک کے وکیل نے ضمنی درخواست میں عدالت کو آگاہ کیا کہ گودام میں موجود گندم کی کل مالیت ۳ ارب ۱۹ کروڑ ۹۹ لاکھ روپے سے زائد ہے اور اینٹی کرپشن کورٹ کے گزشتہ فیصلے کے باعث یہ مال وہاں پڑا ہوا ہے، جس کے بارش کے پانی، نمی اور خراب ہونے کے باعث ضائع ہونے کے شدید خدشات ہیں۔ ہائیکورٹ نے حکومتی درخواست کو منظور کرتے ہوئے اربوں روپے مالیت کی اس سرکاری گندم کو ریلیز کرنے اور فروخت کر کے باقاعدہ حسابات محفوظ رکھنے کے احکامات جاری کر دیے







