سعودی عرب میں تیل کی سب سے بڑی کمپنی آرامکو کے مرکزی دفاتر، ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور دارالحکومت کی آئل ریفائنری پر حوثی باغیوں کی جانب سے کروز و بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے سنسنی خیز حملے کیے گئے ہیں۔ سعودی فضائی دفاعی نظام کی جانب سے دفاعی کارروائی کے دوران تباہ ہونے والے میزائلوں کا ملبہ ریاض اور مشرقی شہر ظہران کے رہائشی علاقوں پر گرنے کے نتیجے میں ایک پاکستانی شہری شہید جبکہ چھ افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں اور ۱۵ مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سنئیر سینیٹر اسحاق ڈار نے عمانی وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی کے ہمراہ اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سعودی عرب میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور پاکستانی شہری کی شہادت اور دیگر کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔ اسحاق ڈار نے حرمین شریفین اور سعودی عرب کے ساتھ کامل اور غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی سیکیورٹی، امن اور خوشحالی کے ساتھ کھڑا ہے۔مشترکہ نیوز کانفرنس کے دوران پاک عمان مشترکہ وزارتی کمیشن کے آٹھویں اجلاس کی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے بتایا کہ دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، آئی ٹی، اور توانائی کے شعبوں میں مشترکہ ورکنگ گروپس قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے باب المندب اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی، غزہ کی فوری امداد، مسئلہ کشمیر کے یو این قراردادوں کے مطابق حل، اور افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف عدم استعمال کے عزم کو دہرایا







