راولپنڈی کے علاقے خیابانِ سرسید، ڈھوک نجو میں 15 سالہ لڑکی کی ہلاکت کے واقعے میں پولیس نے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ مقدمے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس کے مطابق مقتولہ گزشتہ روز مدرسے جانے کے لیے گھر سے نکلی تھی تاہم واپس نہ آئی، جس پر اہلِ خانہ نے تھانہ پیر ودھائی میں اس کے اغوا کا مقدمہ درج کرایا۔
بعد ازاں پولیس کارروائی کے دوران لڑکی کی لاش گھر کے قریب واقع ایک مکان سے برآمد ہوئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں مبینہ زیادتی کے بعد قتل کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے، تاہم حتمی حقائق فرانزک اور پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوں گے۔
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم ممریز کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار شخص مقتولہ کا خالو ہے اور اس سے مزید تفتیش جاری ہے۔
مقتولہ کے والد کے مطابق ان کی بیٹی گزشتہ روز دوپہر تقریباً دو بجے لاپتا ہوئی تھی، جبکہ آج اس کی لاش گھر کے قریب ان کے ہم زلف کے گھر سے ملی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات کو آگے بڑھانے کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں افسوس اور تشویش کی فضا پائی جاتی ہے۔







