اسلام آباد میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی 22 سالہ طالبہ لائبہ اعجاز کی مبینہ خودکشی کے واقعے نے مختلف حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
میڈیا اور پولیس رپورٹس کے مطابق لائبہ اعجاز امریکا جانے کی خواہش پوری کرنے کے لیے ایک ویزا ایجنٹ سے رابطے میں تھیں۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس مقصد کے لیے مبینہ طور پر 50 لاکھ روپے ادا کیے گئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق بعد ازاں متعلقہ دستاویزات جعلی ثابت ہوئیں اور ویزا کے حصول کا عمل کامیاب نہ ہو سکا۔ بتایا گیا ہے کہ اس صورتحال کے باعث طالبہ شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہوئیں۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق مالی نقصان اور ذہنی صدمے کے بعد لائبہ اعجاز کی مبینہ خودکشی کی خبر سامنے آئی، جس پر سوشل اور عوامی حلقوں میں افسوس اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ بیرون ملک تعلیم یا سفر کے خواہشمند افراد کے لیے ویزا معاملات میں احتیاط اور تصدیق شدہ ذرائع کے استعمال کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔







