راولپنڈی کی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈکوارٹرز ملیحہ سحر نے مبینہ گھریلو تشدد کے خلاف اپنے شوہر کے خلاف ویمن پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرا دیا ہے۔ مقدمہ ان کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں شوہر پر جسمانی اور نفسیاتی تشدد کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
مقدمے کے متن کے مطابق ملیحہ سحر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ دو بچوں کی ماں ہیں اور گزشتہ کئی ماہ سے شوہر کے مبینہ جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنا کر رہی ہیں۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ 2 اکتوبر کی شام انہیں تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ایک کمرے میں بند کر دیا گیا اور ان کا موبائل فون بھی چھین لیا گیا۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ انہیں اہلِ خانہ اور بچوں سے ملنے سے روکا گیا جبکہ مسلسل دباؤ، دھمکیوں اور خوف کی فضا میں رکھا گیا۔ ملیحہ سحر نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں اور ان کے بچوں کو جانی، جسمانی اور عزت و وقار کے حوالے سے خطرات لاحق ہیں۔
مقدمے میں پولیس سے استدعا کی گئی ہے کہ جسم پر موجود زخموں کے نشانات کا جائزہ لیا جائے، جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے انہیں ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔ درخواست گزار نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ان کے شوہر کو ان پر دباؤ ڈالنے کے لیے بچوں کے استعمال سے روکا جائے۔
ویمن پولیس نے مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

