وزیراعظم شہباز شریف 21 سے 25 ستمبر تک نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اعلی سطح کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے اور 25 ستمبر کو اعتماد کی بحالی، تبدیلی کا انتظام، ایک اقوام متحدہ جو سب کے لیے کام کرے کے عنوان سے ہونے والے جنرل ڈیبیٹ سے خطاب کریں گے۔نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے حوالے سے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے صحافیوں کو بیک گرائونڈ بریفنگ دی ہے اور بتایا کہ 81 ویں جنرل اسمبلی کا اجلاس 22 ستمبر سے 26 ستمبر اور 28 ستمبر کو منعقد ہوگا، نومنتخب صدر کی جانب سے جنرل ڈیبیٹ کا موضوع اعتماد کی بحالی، تبدیلی کا انتظام: ایک اقوام متحدہ جو سب کے لیے کام کرے مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف 25 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے، جس میں وہ علاقائی اور عالمی سلامتی کی صورت حال پر پاکستان کا موقف پیش کریں گے اور تنازعات کے پرامن حل، مکالمے، سفارت کاری اور تحمل کی ضرورت پر زور دیں گے۔عاصم افتخار احمد نے کہا کہ وزیراعظم اپنے خطاب میں پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، انسداد دہشت گردی، اسلاموفوبیا، عالمی اقتصادی چیلنجز، اقوام متحدہ میں اصلاحات اور پائیدار ترقی کے اہداف سمیت اہم عالمی معاملات پر پاکستان کی ترجیحات بھی اجاگر کریں گے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کا کہنا تھا کہ پاکستان فلسطین اور مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت طویل قبضے اور حق خودارادیت سے متعلق مسائل پر بھی عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائے گا اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کے حل پر زور دے گا۔انہوںنے کہاکہ وزیراعظم جنرل اسمبلی کے موقع پر عالمی رہنماں اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی بھی متعدد دوطرفہ اور کثیرالجہتی ملاقاتیں ہوں گی۔عاصم افتخار احمد نے کہا کہ وزیر خارجہ 23 ستمبر کو مصنوعی ذہانت اور سلامتی سے متعلق سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے، پاکستان اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطح کے ہفتے کو علاقائی امن و استحکام، کثیرجہتی نظام کے فروغ اور عالمی تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے استعمال کرے گا۔ دوسری جانب ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف 22 ستمبر کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دیے جانے والے عصرانے میں بھی شرکت کریں گے۔







