وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی اور ملکی سطح پر بڑھتی ہوئی قیمتوں کے شدید دباؤ کے پیشِ نظر اسلام آباد کے لیے جامع اور سخت کفایت شعاری مہم کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس مہم کی کل مدت 3 ماہ مقرر کی گئی ہے، جس کا بنیادی مقصد ایندھن اور سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی لانا ہے۔نوٹیفکیشن کے تحت اسلام آباد میں تمام دکانیں، تجارتی مارکیٹیں اور شاپنگ مالز رات 9 بجے بند کر دیے جائیں گے، جبکہ شادی ہالز، مارکیز اور دیگر تجارتی سرگرمیاں رات 10 بجے تک ختم کرنا لازم ہوگی۔ ہوٹل، ریسٹورنٹس اور کیفے رات 11 بجے بند ہوں گے، تاہم ٹیک آوے، ہوم ڈیلیوری، فارمیسیز، کلینکس، اسپتال، تندور، بیکریاں، دودھ کی دکانیں اور پیٹرول پمپس کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہو گا۔ اس کے علاوہ جم، کھیلوں کی سہولیات، کال سینٹرز اور آئی ٹی کمپنیاں بھی اپنے معمول کے مطابق کام کر سکیں گی۔سرکاری اخراجات میں کمی کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ 50 فیصد سرکاری گاڑیاں گراؤنڈ کر دی جائیں گی اور گاڑیوں کے ایندھن کے کوٹے میں 50 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔ تاہم مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں، ضروری سروسز اور ایف بی آر کی آپریشنل گاڑیاں اس سے مستثنیٰ ہوں گی۔ اس کے علاوہ تین ماہ کے لیے تمام قسم کی نئی سرکاری گاڑیوں اور آئی ٹی آلات کے سوا دیگر پائیدار اشیاء کی خریداری اور بیرونِ ملک دوروں پر مکمل پابندی رہے گی۔ ناگزیر بیرونِ ملک سفر کی صورت میں وزراء اور افسران اکانومی کلاس میں سفر کریں گے اور تمام سرکاری اجلاس ترجیحاً ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے منعقد کیے جائیں گے۔ حکومت کے خرچ پر تمام سرکاری عشائیوں، کانفرنسوں اور سیمینارز پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے، جبکہ شادی کی تقریبات میں صرف ایک ڈش پیش کرنے کی اجازت ہوگی۔







