خوردنی تیل کی دستیابی 50لاکھ 74ہزار ٹن تک پہنچ گئی

پاکستان میں خوردنی تیل کی مجموعی دستیابی مالی سال 2025-26میں عارضی طور پر بڑھ کر 50 لاکھ 74 ہزار ٹن ہوگئی جو 2024-25 میں 46 لاکھ 43 ہزار ٹن اور 2023-24 میں 42 لاکھ 35 ہزار ٹن تھی۔ اس اضافے کی وجہ درآمدات اور مقامی پیداوار دونوں میں اضافہ ہے۔وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویز کے مطابق پاکستان کا خوردنی تیل اور تیل دار بیجوں کا درآمدی بل 2025-26 میں بڑھ کر 5.866 ارب ڈالر ہوگیا جو 2024-25 میں 4.971 ارب ڈالر اور 2023-24 میں 4.190 ارب ڈالر تھا۔2025-26 کے درآمدی بل میں خوردنی تیل کا حصہ 4.038 ارب ڈالر جبکہ تیل دار بیجوں کا حصہ 1.828 ارب ڈالر رہا۔ اس کے مقابلے میں 2024-25 میں خوردنی تیل پر 3.852 ارب ڈالر اور تیل دار بیجوں پر 1.119 ارب ڈالر خرچ ہوئے تھے۔ 2023-24 میں یہ اعداد بالترتیب 2.964 ارب ڈالر اور 1.226 ارب ڈالر تھے۔اعداد و شمار کے مطابق 2025-26 میں درآمد شدہ خوردنی تیل کی مقدار 36 لاکھ 71 ہزار ٹن رہی جو گزشتہ مالی سال میں 36 لاکھ 27 ہزار ٹن اور 2023-24 میں 31 لاکھ 72 ہزار ٹن تھی۔پام آئل بدستور سب سے بڑا حصہ رہا جس کی درآمدات 2025-26 میں بڑھ کر 34 لاکھ 83 ہزار ٹن ہوگئیں جبکہ 2024-25 میں یہ 32 لاکھ 13 ہزار ٹن اور 2023-24 میں 29 لاکھ 97 ہزار ٹن تھیں۔تاہم سویا بین آئل کی درآمدات 2025-26 میں کم ہو کر 98 ہزار ٹن رہ گئیں جو گزشتہ مالی سال میں 3 لاکھ 21 ہزار ٹن اور 2023-24 میں ایک لاکھ 20 ہزار ٹن تھیں۔دیگر اقسام کے خوردنی تیل کی درآمدات 2025-26 میں 90 ہزار ٹن رہیں جبکہ 2024-25 میں یہ 93 ہزار ٹن اور 2023-24 میں 55 ہزار ٹن تھیں۔درآمد شدہ تیل دار بیجوں سے حاصل کیے جانے والے تیل کی مقدار میں بھی نمایاں اضافہ ہوا اور 2025-26 میں یہ بڑھ کر 8 لاکھ 53 ہزار ٹن ہوگئی جو 2024-25 میں 5 لاکھ 42 ہزار ٹن اور 2023-24 میں 5 لاکھ 97 ہزار ٹن تھی۔اس میں سویا بین آئل کا حصہ 2025-26 میں 5 لاکھ 72 ہزار ٹن رہا جو 31 لاکھ 80 ہزار ٹن پسے ہوئے سویا بین بیجوں سے حاصل کیا گیا۔ اس کے مقابلے میں 2024-25 میں 15 لاکھ 24 ہزار ٹن بیجوں سے 2 لاکھ 74 ہزار ٹن اور 2023-24 میں 9 لاکھ 69 ہزار ٹن بیجوں سے ایک لاکھ 74 ہزار ٹن سویا بین آئل حاصل کیا گیا تھا۔کینولا آئل کی پیداوار 2025-26 میں 2 لاکھ 66 ہزار ٹن رہی جو 6 لاکھ 33 ہزار ٹن پسے ہوئے بیجوں سے حاصل ہوئی۔ گزشتہ مالی سال میں 6 لاکھ 10 ہزار ٹن بیجوں سے 2 لاکھ 56 ہزار ٹن کینولا آئل حاصل کیا گیا تھا۔سورج مکھی اور دیگر تیل دار بیجوں سے 2025-26 میں مزید 15 ہزار ٹن تیل حاصل ہوا جس کے لیے 35 ہزار ٹن بیجوں کو پیسا گیا۔مجموعی طور پر درآمد شدہ خوردنی تیل اور درآمد شدہ تیل دار بیجوں سے حاصل ہونے والے تیل کو شامل کیا جائے تو 2025-26 میں درآمدات 45 لاکھ 24 ہزار ٹن تک پہنچ گئیں۔ 2024-25 میں یہ مقدار 41 لاکھ 69 ہزار ٹن تھی جب درآمدات مجموعی دستیابی کا 90 فیصد تھیں جبکہ 2023-24 میں 37 لاکھ 69 ہزار ٹن درآمد کیے گئے جو مجموعی دستیابی کا 89 فیصد تھا۔مقامی پیداوار بھی 2025-26 میں عارضی طور پر بڑھ کر 5 لاکھ 50 ہزار ٹن ہوگئی جو 2024-25 میں 4 لاکھ 74 ہزار ٹن اور 2023-24 میں 4 لاکھ 66 ہزار ٹن تھی۔دستاویز میں پاکستان آئل سیڈ ڈپارٹمنٹ اور پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 2025-26 میں مجموعی دستیابی اور مقامی پیداوار دونوں میں بیک وقت اضافہ ہوا تاہم خوردنی تیل کی فراہمی کا بڑا حصہ بدستور درآمدات سے پورا کیا گیا۔ مالی سال 2025-26 کے اعداد و شمار ابتدائی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed