ہیلویٹاس سوئس انٹرکوآپریشن پاکستان کے زیر اہتمام فرنٹ لائن ورکرز کے لیے دو روزہ چائلڈ پروٹیکشن ٹریننگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں میڈیا نمائندوں، اسکول اساتذہ، متعلقہ سرکاری اداروں اور سماجی کارکنوں کو بچوں کے تحفظ، تشدد، استحصال اور بچوں کے بہترین مفاد کے حوالے سے آگاہی دی گئی۔تربیتی پروگرام چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن خیبر پختونخوا کے تعاون سے منعقد کیا گیا، جس کے دوران شرکا کو چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ 2010، کمیشن کے قیام، طریقہ کار، کام کے دائرہ کار اور کیس مینجمنٹ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کے ڈاکٹر اختر منیر چائلڈ پروٹیکشن آفیسر، ڈاکٹر نایاب علی اور حارث احمد(سوشل کیس ورکرز (جبکہ ہیلویٹاس کے سعید الدین(پروٹیکشن آفیسر )نے فرنٹ لائن ورکرز کو بچوں کے تحفظ سے متعلق مختلف امور پر تربیت فراہم کی۔تربیتی سیشن میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بچوں کو تشدد، بدسلوکی، استحصال، چائلڈ لیبر اور دیگر خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے بروقت نشاندہی، درست رہنمائی اور متعلقہ اداروں تک کیس کی مئوثر رپورٹنگ ضروری ہے۔ شرکا کو بچوں سے متعلق حساس کیسز میں رازداری، بچے کے بہترین مفاد اور مناسب کیس مینجمنٹ کے اصولوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔ہیلویٹاس سوئس انٹرکوآپریشن پاکستان بچوں کے تحفظ کے حوالے سے دو سالہ منصوبے پر کام کر رہا ہے، جس کے تحت کمیونٹی کی سطح پر چائلڈ پروٹیکشن کمیٹیوں کا قیام اور ان کی تربیت، بچوں کو اسکولوں میں داخل کرانا، ہنر کی تربیت فراہم کرنا اور بچوں کے برتھ سرٹیفکیٹس کے حصول میں معاونت شامل ہے۔منصوبے کے تحت چائلڈ لیبر میں شامل بچوں کے والدین کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاکہ خاندانوں کی معاشی صورتحال بہتر بنا کر بچوں کو محنت مزدوری سے نکال کر تعلیم اور محفوظ ماحول کی طرف لایا جا سکے۔فرنٹ لائن ورکرز رضاکاروں پر مشتمل گروپ ہے جو کمیونٹی میں بچوں کو درپیش مسائل اور تحفظ کے خطرات کی نشاندہی کرکے متعلقہ اداروں تک کیسز پہنچانے اور منصوبے کے مثر نفاذ میں معاونت فراہم کرتا ہے







