ڈائریکٹوریٹ آف کریکولم اینڈ ٹیچرز ایجوکیشن نے 2006 کے بعد پہلی مرتبہ نویں سے بارہویں جماعت کے نصاب پر جامع نظرِ ثانی کرتے ہوئے اسے سادہ، آسان اور طلبہ کے لیے زیادہ قابلِ فہم انداز میں مرتب کیا ہے۔نظرِ ثانی سے قبل اساتذہ اور طلبہ کی جانب سے نصاب کے مشکل اور بوجھل ہونے کی شکایات سامنے آتی رہی تھیں۔ اساتذہ اور طلبہ کے مطابق بعض تصورات اور موضوعات کو مختلف مقامات پر بار بار دہرایا گیا تھا، جس کے باعث نصاب غیر ضروری طور پر طویل اور طلبہ کے لیے اضافی بوجھ کا باعث بن گیا تھا۔نئے نصاب میں ایسے تصورات اور موضوعات کی غیر ضروری تکرار ختم کر دی گئی ہے، جبکہ بنیادی اور ضروری تعلیمی مواد کو برقرار رکھتے ہوئے نصاب کو زیادہ سادہ، مربوط اور آسان بنایا گیا ہے۔ اس اقدام سے طلبہ کے تعلیمی بوجھ میں کمی اور اساتذہ کے لیے تدریسی عمل میں آسانی پیدا ہونے کی توقع ہے۔نصاب کی نظرِ ثانی کا یہ عمل ایک دقیق، محنت طلب اور صبر آزما مرحلہ تھا، جس کی ذمہ داری ڈائریکٹر کریکولم اینڈ ٹیچرز ایجوکیشن گوہر علی نے اٹھائی اور اسے کامیابی سے پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔تعلیم سے متعلق مختلف شعبوں اور اساتذہ برادری نے نویں سے بارہویں جماعت کے نصاب کو آسان اور مربوط بنانے کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے ڈائریکٹر کریکولم اینڈ ٹیچرز ایجوکیشن گوہر علی کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔







