حکمرانی کی اصلاحات میں مضبوط بلدیاتی نظام مرکزی حیثیت رکھتا ہے، اسراراللہ خان

سابق ڈپٹی ٹائون ناظم پشاور اسراراللہ خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش سنگین اور بڑھتے ہوئے حکمرانی کے مسائل سے نمٹنے کی کوششوں میں بلدیاتی حکومت کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کی بحث اپنی جگہ اہم ہے، تاہم نئے صوبوں کا قیام بھی بذاتِ خود پاکستان کے سنگین حکمرانی کے مسائل کا مکمل حل نہیں ہوگا۔ ملک کو ایک مضبوط، بااختیار اور مئوثر بلدیاتی نظام کی ضرورت ہے جو شہری اور ریاست کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کو کم کر سکے۔اسراراللہ خان نے کہا کہ نئے صوبوں کا قیام ایک پیچیدہ سیاسی اور آئینی عمل ہے جس کے لیے وسیع سیاسی اتفاقِ رائے درکار ہوگا۔ ان کے بقول، جب مضبوط اور بااختیار بلدیاتی حکومتیں اختیار، وسائل، خدمات اور جواب دہی کو عوام کے قریب لا سکتی ہیں تو پاکستان کو یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ حکمرانی کے مسائل کے حل کے لیے پہلے مقامی سطح پر حکومت کو مضبوط بنانا زیادہ مئوثر راستہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بنیادی ضرورت محض انتظامی نقشے میں تبدیلی نہیں بلکہ سیاسی اختیار، انتظامی ذمہ داری، مالی وسائل اور جواب دہی کو شہریوں کے قریب لانا ہے۔ مضبوط بلدیاتی ادارے مقامی مسائل کو مقامی سطح پر حل کرنے، عوامی خدمات بہتر بنانے، شکایات کی بروقت نشاندہی اور ریاست پر عوام کا اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اسراراللہ خان نے آئین میں بلدیاتی حکومت کے بارے میں ایک جامع اور باقاعدہ الگ باب شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ آرٹیکل 140-A میں درج اصولوں کو عملی اور مستقل شکل دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا تجربہ بتاتا ہے کہ آرٹیکل 140-A کی آئینی حیثیت اور اعلی عدالتوں کے اہم فیصلوں کے باوجود یہ شق اپنے مطلوبہ مقاصد کے حصول کے لیے کافی ثابت نہیں ہوئی اور ملک میں مسلسل، بااختیار اور مئوثر بلدیاتی نظام قائم نہیں ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ اس آئینی فریم ورک میں باقاعدہ اور بروقت بلدیاتی انتخابات، واضح اور محفوظ مدتِ اقتدار، انتقالِ اقتدار کے دوران ادارہ جاتی تسلسل، صوبائی مالیاتی کمیشنوں کے ذریعے قابلِ پیش گوئی اور بروقت مالی وسائل، اور سیاسی، انتظامی و مالی ذمہ داریوں اور اختیارات کی واضح تقسیم شامل ہونی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ مثر بلدیاتی نظام کے لیے مناسب ضلعی اور بلدیاتی سول سروس کیڈرز تشکیل دیے جائیں، جبکہ اہلکاروں کو من مانی تبادلوں اور برطرفیوں سے مناسب پیشہ ورانہ اور ادارہ جاتی تحفظ حاصل ہو۔ احتساب ضروری ہے، لیکن اسے شفاف، ادارہ جاتی اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔اسراراللہ خان نے خبردار کیا کہ اگر نئے صوبوں کے قیام کا مشکل سیاسی و آئینی عمل کامیابی سے مکمل بھی ہو جائے، لیکن اس کے ساتھ مضبوط بلدیاتی نظام موجود نہ ہو تو یہ اقدام حکمرانی کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو سکتا ہے۔ اس کے بجائے اضافی صوبوں کے نتیجے میں نئی اسمبلیوں، محکموں، انتظامی ڈھانچوں اور اداروں کی ضرورت پیدا ہو سکتی ہے، جس سے قومی خزانے پر مزید مالی بوجھ پڑ سکتا ہے، جبکہ ضروری نہیں کہ عام شہری کے لیے حکومت قریب آ جائے۔انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو اس لیے بنیادی طور پر بہتر حکمرانی اور شہری و ریاست کے درمیان زیادہ قربت کے نقط نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ "نقشہ تبدیل کرنے سے لازما شہری اور ریاست کے درمیان فاصلہ کم نہیں ہوتا۔”اسراراللہ خان نے مزید کہا کہ مضبوط بلدیاتی حکومت نہ صرف بہتر عوامی خدمات اور جمہوری شمولیت کے لیے اہم ہے بلکہ ریاستی استحکام، عوامی اعتماد اور مقامی شکایات کی بروقت نشاندہی اور حل کے لیے بھی ضروری ہے۔”پاکستان کو محض حکومتی ڈھانچے یا نقشے میں تبدیلی کی ضرورت نہیں۔ اسے ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو شہری کے قریب ہو، مقامی ضروریات کا جواب دے اور اسے تفویض کیے گئے اختیار اور وسائل کے استعمال پر جواب دہ ہو۔”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed