50فیصد ٹیرف ، کینیڈا میں کار ساز کمپنیاں خطرے میں پڑ گئیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا سے درآمد ہونے والی گاڑیوں پر مجوزہ 50فیصد ٹیرف جاپانی کار ساز کمپنیوں کیلئے بڑا چیلنج بن گیا جبکہ تجزیہ کاروں کے مطابق ڈیوٹی نافذ ہونے کی صورت میں دونوں کمپنیاں کینیڈا میں اپنی کچھ اسمبلی لائنیں بند کرنے پر مجبور ہوسکتی ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ٹیوٹا اور ہونڈا کینیڈا میں تیار ہونے والی مجموعی گاڑیوں میں تین چوتھائی سے زیادہ کا حصہ رکھتی ہیں۔ مجوزہ ٹیرف یکم جنوری سے نافذ ہونے کی صورت میں ان کمپنیوں کی امریکی مارکیٹ کے لیے کینیڈا میں تیار کی جانے والی گاڑیوں کی لاگت نمایاں طور پر بڑھ سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ سال کینیڈا میں تیار ہونے والی گاڑیاں ہونڈا کی امریکی فروخت کا تقریبا ایک چوتھائی جبکہ ٹیوٹا کی امریکی فروخت کا 17 فیصد تھیں، جو بڑی کار ساز کمپنیوں میں نمایاں ترین تناسب ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مجوزہ اقدام موجودہ 25 فیصد ٹیرف کو دگنا کردے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے کینیڈا میں گاڑیوں کی پیداوار کی معاشی افادیت شدید متاثر ہوسکتی ہے۔ آٹو انڈسٹری کے مطابق اگر مقصد کینیڈا کی آٹو انڈسٹری کو شدید نقصان پہنچانا ہو تو یہ ٹیرف ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ٹیوٹا اور ہونڈا کو اپنی کچھ کینیڈین اسمبلی لائنیں بند کرنا پڑسکتی ہیں۔ امریکہ دونوں کمپنیوں کے لیے سب سے اہم مارکیٹ ہے، جبکہ چینی کمپنی BYD جیسی حریف کمپنیوں کو امریکی مارکیٹ میں فی الحال رسائی حاصل نہیں ہے۔ تاہم جاپانی کار ساز اداروں کو جنوب مشرقی ایشیا، یورپ اور لاطینی امریکہ میں کم قیمت چینی الیکٹرک گاڑیوں سے بڑھتے ہوئے مقابلے کا بھی سامنا ہے۔ کینیڈا کی آٹو انڈسٹری سالانہ تقریبا 1.2 ملین گاڑیاں تیار کرتی ہے اور بالواسطہ طور پر تقریبا 4 لاکھ 27 ہزار ملازمتوں کو سپورٹ کرتی ہے۔ ٹیوٹا کینیڈا سے امریکہ کو RAV4 جبکہ Honda CR-V برآمد کرتی ہے۔ دونوں گاڑیاں امریکی مارکیٹ میں مقبول ترین SUVs میں شامل ہیں۔ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں نے عالمی آٹو انڈسٹری کو اپنی سپلائی چینز اور پیداواری منصوبوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ شمالی امریکہ میں برسوں سے امریکی، یورپی، جاپانی اور جنوبی کوریائی کمپنیوں نے سرحد پار پیداواری نظام قائم کیے تھے۔ ٹیوٹا کو امریکی ٹیرف پہلے ہی بھاری پڑ چکے ہیں۔ کمپنی کے مطابق گزشتہ مالی سال میں امریکی ٹیرف کی وجہ سے اسے تقریبا 1.4 ٹریلین ین( 8.8ارب ڈالر)کانقصان برداشت کرنا پڑا۔ کمپنی اب امریکی پیداوار بڑھانے پر بھی توجہ دے رہی ہے اور گزشتہ سال اگلے پانچ برسوں میں امریکہ میں 10 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کا ہدف ظاہر کرچکی ہے۔ اس منصوبے میں ٹیکساس میں 3.6 ارب ڈالر کی نئی گاڑیوں کی فیکٹری بھی شامل ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکہ اور کینیڈا کے درمیان کوئی نیا تجارتی معاہدہ نہ ہوا اور مجوزہ ٹیرف نافذ ہوگیا تو ٹیوٹا اور ہونڈا کو اپنی کینیڈین پیداوار، سپلائی چین اور امریکی مارکیٹ کو گاڑیاں فراہم کرنے کی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کرنا پڑسکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed