ضم علاقوں میں مقامی نظام حکومت مضبوط بنانے کیلئے17.55ارب کا منصوبہ

خیبرپختونخوا حکومت عالمی بینک کے تعاون سے دیہی سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی معاونت کے منصوبے کے تحت صوبے کے ضم شدہ علاقوں میں مقامی اداروں کو مضبوط بنانے اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر کرنے کے لیے 17 ارب 55 کروڑ روپے (6 کروڑ 50 لاکھ ڈالر)کی سرمایہ کاری کا منصوبہ رکھتی ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق ضم شدہ علاقوں کی ادارہ جاتی ترقی کا اقدام خیبرپختونخوا رورل انویسٹمنٹ اینڈ انسٹی ٹیوشنل سپورٹ پراجیکٹ کے پانچ اجزا میں سے ایک ہے۔یہ منصوبہ خیبرپختونخوا کے تمام نئے ضم شدہ اضلاع اور فرنٹیئر ریجنز کا احاطہ کرتا ہے اور اس میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، ادارہ جاتی استعداد میں بہتری، سیلاب سے نمٹنے، منصوبے کے انتظام اور ہنگامی ردعمل سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔ادارہ جاتی ترقی کے لیے مختص 17 ارب 55 کروڑ روپے کے تحت ایسی سرمایہ کاری کی جائے گی جس سے حکومتی اداروں کو شہریوں کی ضروریات پر زیادہ موثر انداز میں ردعمل دینے کے قابل بنایا جا سکے۔اس سلسلے میں نچلی سطح کے حکومتی اداروں اور عوامی خدمات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔منصوبے کا ایک اہم حصہ ویلج کونسلز اور مقامی آبادی کی ادارہ جاتی مضبوطی اور استعداد کار میں اضافے سے متعلق ہے۔ اس کے تحت شراکتی منصوبہ بندی، بجٹ سازی اور نگرانی میں معاونت فراہم کی جائے گی جبکہ سماجی احتساب کے نظام، کمیونٹی ڈویلپمنٹ اور رویوں میں مثبت تبدیلی سے متعلق آگاہی سرگرمیوں کو بھی مضبوط بنایا جائے گا۔منصوبے کے تحت ویلج کونسلز کو مقامی آبادی کی ترجیحات کے مطابق بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے مشروط گرانٹس بھی فراہم کی جائیں گی۔دستاویزات کے مطابق حکومت سماجی رابطہ کاروں کی تعیناتی کے لیے مالی معاونت فراہم کرے گی جبکہ ویلج کونسلز کو انجینئرنگ معاونت بھی دی جائے گی تاکہ وہ گائوں کی سطح پر ترقیاتی منصوبے تیار کرکے ان پر عمل درآمد کر سکیں۔مقامی ترقیاتی سکیموں میں پانی کی فراہمی، صفائی، پیدل راستوں، چار دیواری، چھوٹی آبپاشی نہروں کی بحالی اور تعمیر، کمیونٹی ہالز اور ویلج کونسل دفاتر کی تعمیر شامل ہو سکتی ہے۔منتخب ذیلی منصوبوں کے لیے بنیادی شرائط پوری کرنے والی ویلج کونسلز کو مشروط گرانٹس کے ذریعے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔اس اقدام کے ایک اور حصے کے تحت تحصیل کی سطح پر عوامی خدمات کے مراکز قائم یا موجودہ مراکز کو بہتر بنایا جائے گا تاکہ شہریوں کو سرکاری خدمات، بالخصوص پیدائش، وفات اور دیگر شہری ریکارڈ سے متعلق سہولیات تک آسان رسائی حاصل ہو سکے۔ادارہ جاتی ترقی کا یہ اقدام پانچ اجزا پر مشتمل ایک بڑے پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد ضم شدہ علاقوں کو خیبرپختونخوا کے صوبائی انتظامی اور خدماتی نظام کے ساتھ مزید موثر طور پر منسلک کرنا ہے۔اس پروگرام کا سب سے بڑا جزو ضم شدہ علاقوں میں کثیر شعبہ جاتی سرمایہ کاری اور عوامی خدمات کی بہتر فراہمی ہے، جس کے لیے 47 ارب 25 کروڑ روپے(17 کروڑ 50 لاکھ ڈالر)کی مالی معاونت مختص کی گئی ہے۔اس کا مقصد بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور عوامی خدمات میں موجود خامیوں کو دور کرکے صوبائی نظام کا دائرہ ضم شدہ علاقوں تک مزید موثر انداز میں بڑھانا ہے۔اس جزو میں پانی اور صفائی، دیہی سڑکوں، زراعت اور آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے پر سرمایہ کاری شامل ہے جبکہ رابطہ کاری، معاشی پیداوار اور انسانی وسائل کی ترقی بہتر بنانے کے لیے اہم اور ترجیحی منصوبوں پر توجہ دی جائے گی۔پانی اور صفائی کے منصوبوں میں پسماندہ علاقوں کو ترجیح دی جائے گی اور پینے کے صاف پانی، صفائی کی خدمات اور گندے پانی کی صفائی کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ زرعی شعبے میں ویلیو ایڈیشن، پروسیسنگ، تنوع، پیداوار میں بہتری، مارکیٹنگ اور تربیت سے متعلق اقدامات کیے جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed