پیٹرولیم ڈیلرز اور حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے، جس کے بعد پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے 15 اگست بروز ہفتہ ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند کرنے کے فیصلے پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے۔گزشتہ روز پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وفد اور وزارتِ پیٹرولیم کے درمیان وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیرِ قیادت تقریبا پانچ گھنٹے تک مذاکرات جاری رہے، تاہم فریقین کے درمیان معاملات طے نہ پا سکے۔ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران پیٹرولیم ڈیلرز کی جانب سے دیے گئے 72 گھنٹے کے الٹی میٹم پر وفاقی وزیرِ پیٹرولیم نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔پیٹرولیم ڈیلرز کا کہنا ہے کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یومیہ رد و بدل کے نظام میں تبدیلی سے انکار کر دیا ہے، جبکہ ڈیلرز کے مارجن میں ایک روپے 34 پیسے اضافے پر بات کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ایسوسی ایشن کے مطابق مارجن میں اضافے کی منظوری وفاقی کابینہ سے مشروط قرار دی گئی ہے۔مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے اور وفاقی وزیرِ پیٹرولیم کے رویے پر پیٹرولیم ڈیلرز کے وفد نے فوری طور پر کراچی واپس روانہ ہونے کا فیصلہ کیا اور وفد چیئرمین ملک خدا بخش کی سربراہی میں کراچی روانہ ہوگیا۔وفد میں وائس چیئرمین طارق حسن، وائس چیئرمین انور کمال، سندھ کے صدر امیر خان، پنجاب سے نائب چیئرمین راجہ وسیم، چوہدری باہر، خواجہ کاشف الہی، خیبر پختونخوا سے عبد الماجد خان سمیت دیگر نمائندے شامل تھے۔ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ہفتہ 15 اگست کو ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند کرنے کا فیصلہ برقرار ہے اور ہڑتال کے حوالے سے آئندہ کا لائحہ عمل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں طے کیا جائے گا۔







