متھرا میں چچا کے ہاتھوں زخمی تیسرا بھتیجا بھی دم توڑ گیا

پشاور کے علاقے متھرا میں جائیداد تنازعہ پر چچا کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا تیسرا بھتیجا بھی چل بسا، تیسرے بھائی عارف احمد کے جاں بحق ہونے کے بعد گھر میں ایک بار پھر صفِ ماتم بچھ گئی، جبکہ اس کے جنازے کے موقع پر علاقے میں بھی سوگ کی فضا قائم رہی۔پولیس کے مطابق واقعہ 23 جولائی کو متھرا کے علاقے باڑہ پل میں پیش آیا تھا، پولیس کو مقتولین کے والد نثار خان ولد عزت خان سکنہ باڑہ پل نے رپورٹ درج کرائی تھی۔ رپورٹ کے مطابق نثار خان کے دو بیٹے 44 سالہ اشفاق خان اور 40 سالہ اسحاق خان گھر میں موجود تھے، جبکہ تیسرا بیٹا عارف احمد کھیتوں میں کام کررہا تھا۔پولیس کے مطابق افتخار احمد کے ساتھ تنازعہ میں مبینہ طور پر پہلے ہاتھا پائی ہوئی، اور بعدازاں افتخار نے عارف سے پستول چھین کر اس پر فائرنگ کردی، جس سے عارف زخمی ہوگیا۔واقعے کی اطلاع ملنے پر عارف کے والد اپنے دونوں بیٹوں اشفاق اور اسحاق کے ہمراہ موقع پر پہنچے، پولیس کے مطابق عبدالوہاب بانڈہ، باڑہ پل کے مقام پر موجود افتخار نے فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں اشفاق اور اسحاق جاں بحق ہوگئے۔فائرنگ کے نتیجے میں مقتولین کے والد نثار خان اور ایک راہگیر محبت شاہ بھی زخمی ہوئے تھے۔فائرنگ کے دوران زخمی ہونے والے عارف احمد کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ تقریبا 20 روز تک زیر علاج رہا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا، جس کے بعد واقعے میں جاں بحق افراد کی تعداد تین ہوگئی۔پولیس کے مطابق فریقین کے درمیان جائیداد کی تقسیم کے تنازعے پر واقعے سے تقریبا ایک ہفتہ قبل بھی تلخ کلامی اور تکرار ہوئی تھی۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم افتخار احمد گرفتار ہوکر اس وقت جیل میں ہے جبکہ مقدمے میں دفعات تبدیل کرکے اسے تہرے قتل کے مقدمے میں تبدیل کردیا گیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed