پشاور ہائیکورٹ نے پولیس کو مطلوب ملزم ممتاز عرف ممتازے کی والدہ کی جانب سے دائر درخواست پر وفاقی اور صوبائی حکومت سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔درخواست کی سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس خورشید اقبال پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ممتاز متعدد مقدمات میں پولیس کو مطلوب ہے اور پولیس کی جانب سے دعوی کیا گیا تھا کہ ملزم کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کیا گیا ہے۔وکیل کے مطابق پولیس نے ملزم کی گرفتاری کے حوالے سے باقاعدہ پریس ریلیز بھی جاری کی تھی، تاہم بعد ازاں عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں پولیس نے مقف اختیار کیا کہ ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا۔درخواست گزار کے وکیل نے مقف اختیار کیا کہ ملزم کی والدہ نے اپنے بیٹے کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے، جبکہ انہیں خدشہ ہے کہ پولیس ملزم کے خلاف کوئی غیرقانونی اقدام نہ کرے۔اس موقع پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت سے رپورٹ تیار کرنے کے لیے مہلت دینے کی استدعا کی۔ عدالت نے ہدایت کی کہ کیس کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ جمع کرائی جائے۔عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مکمل رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔







