مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کے چھاپوں اور آبادکاروں کے حملوں میں مزید شدت آگئی۔فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق مختلف علاقوں میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملے اور اسرائیلی فوج کی کارروائیاں جاری رہیں، اسرائیلی آبادکاروں نے مغربی کنارے میں گاڑیوں کے ذریعے سفر کرنے والے فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنایا۔آبادکاروں نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کے قریب اور رملہ کے اطراف میں بھی فلسطینیوں پر حملے کئے، اسرائیلی فورسز نے الخلیل کے جنوب میں واقع المختار چوک پر چھاپہ مار کارروائی کی جس کے دوران ایک فلسطینی شہری کو گولی مار کر زخمی کر دیا گیا۔دیگر علاقوں میں بھی اسرائیلی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں، فوج نے ایک فلسطینی شہری کو حراست میں لے لیا۔ ادھر اسرائیل نے 60 فلسطینی قیدیوں کو رہا کر کے غزہ بھیج دیا۔ یہ کارروائی ریڈ کراس کی نگرانی اور سہولت سے انجام دی گئی، رہا کئے گئے افراد کو کرم ابو سالم سرحدی گزرگاہ کے ذریعے خان یونس منتقل کیا گیا جہاں انہیں ناصر میڈیکل کمپلیکس پہنچایا گیا۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ رہا کئے گئے افراد خطرناک نہیں تھے، ریڈ کراس نے بتایا کہ 2023 سے اب تک وہ اسی نوعیت کی کارروائیوں کے ذریعے 2,500 سے زائد زیر حراست افراد کی منتقلی میں سہولت فراہم کر چکی ہے۔ادارے نے کہا کہ اکتوبر 2023 سے اسے اسرائیلی حراستی مراکز میں موجود قیدیوں تک رسائی حاصل نہیں ہو سکی۔دوسری جانب امریکا نے مقبوضہ مغربی کنارے میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر سرکاری اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کے سفر پر عائد عارضی پابندی میں توسیع کر دی ہے۔امریکی سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا کہ بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات اور غیر یقینی صورتحال کے باعث امریکی سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے اس علاقے کے سفر پر پابندی برقرار رکھی گئی ہے۔یہ پابندی ابتدائی طور پر اتوار کو نافذ کی گئی تھی جسے اب بدھ کی شام تک بڑھا دیا گیا ہے، بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر حالات میں تبدیلی نہ آئی تو پابندی میں مزید توسیع بھی کی جاسکتی ہے۔دریں اثنا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے منصوبوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بستیاں بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔گوتریس نے کہا فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی آبادکار بستیاں قانونی حیثیت نہیں رکھتیں، یہ خطے میں امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں، اسرائیلی آبادکاری کی پالیسی دو ریاستی حل اور اسرائیلی و فلسطینی عوام کے درمیان منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام میں رکاوٹ بن رہی ہے۔انہوں نے ایک بار پھر شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی انسانی حقوق و انسانی قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے احتساب پر زور دیا۔







