جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ شہر کی گنجان آباد سڑکوں اور عوامی مقامات کی بندش نہ صرف شہریوں کی سماجی آزادیوں کو محدود کر رہی ہے بلکہ عوام کے روزمرہ مسائل میں بھی اضافہ کر رہی ہے۔ڈیرہ اسماعیل خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انتظامیہ اور پولیس کی اولین ذمہ داری شہریوں کو مشکلات سے دوچار کرنے کے بجائے انہیں ریلیف فراہم کرنا اور معاشرے کو معمول کے وظائف اور زندگی کے معمولات کی بحالی کی طرف لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گنجان آباد سڑکوں، تفریحی مقامات اور عوامی پارکوں کی بندش مسائل کا حل نہیں بلکہ اس سے سماجی بے چینی اور بداعتمادی میں اضافہ ہوگا۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ایسی پابندیوں کے نتیجے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس شہر کے عوام ماضی میں فرقہ وارانہ تشدد، مساجد اور امام بارگاہوں پر خودکش حملوں اور بدترین ٹارگٹ کلنگ جیسے المناک واقعات کا سامنا کر چکے ہیں، تاہم اس کے باوجود اس وقت بھی شہر کی سڑکیں، تفریحی مقامات اور عوامی پارک کھلے رہے۔مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ اب جبکہ شہر میں مذہبی ہم آہنگی اور سیاسی رواداری کی فضا پہلے کی نسبت بہتر ہوئی ہے، ایسے وقت میں سیکیورٹی کے نام پر گنجان آباد سڑکوں کی بندش سے بڑی بڑی شہری آبادیوں کو محصور کرنا اور شہر کی واحد سویلین تفریحی گاہ کی بندش عوام کو بلاوجہ احتجاج اور ردعمل پر مجبور کرنے کے مترادف ہے، جو کسی طور دانشمندانہ اقدام نہیں۔مولانا فضل الرحمان نے انتظامیہ اور پولیس سے مطالبہ کیا کہ دریا کنارے واقع تفریحی مقام، موسمیات روڈ اور فادر اسکول روڈ کو فوری طور پر ٹریفک اور عوام کے لیے کھول کر شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جائے۔جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چشمہ رائٹ بینک کینال (سی آر بی سی)کی فوری مرمت و بحالی کے لیے فنڈز جاری کیے جائیں اور ضلع تونسہ کے ٹیل پر واقع کاشتکاروں کے حقوق آبپاشی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ڈیرہ اسماعیل خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سی آر بی سی نہر ڈیرہ اسماعیل خان اور تونسہ کی زرعی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے







