نیوزی لینڈ میں پہلی بار مہلک ایچ فائیو برڈ فلو وائرس کا کیس سامنے آنے کے بعد حکام نے نگرانی مزید سخت کر دی ۔ ملکی میڈیا کے مطابق دارالحکومت ویلنگٹن کے پیٹون بیچ پر مردہ حالت میں ملنے والے ایک بران اسکوا نامی سمندری پرندے میں ایچ فائی وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ نیوزی لینڈ کے بایو سیکیورٹی اور فوڈ سیفٹی کے وزیر اینڈریو ہوگارڈ نے کہا کہ یہ وائرس ایک سمندری پرندے میں پایا گیا ہے اور فی الحال جنگلی پرندوں میں بڑے پیمانے پر اموات یا وائرس کے پھیلا ئوکے شواہد نہیں ملے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب تک پولٹری فارموں میں وائرس کی موجودگی سامنے نہیں آئی۔یہ پیش رفت گزشتہ ماہ آسٹریلیا میں ایچ فائیوبرڈ فلو کی تصدیق کے بعد سامنے آئی ہے جس کے بعد نیوزی لینڈ بھی اس خطرناک وائرس سے متاثر ہونے والا خطے کا تازہ ترین ملک بن گیا ہے۔وزیر اینڈریو ہوگارڈ کا کہنا تھاکہ ایچ فائیو برڈ فلو سے عام شہریوں کو خطرہ بہت کم ہے کیونکہ یہ وائرس شاذ و نادر ہی انسانوں کو متاثر کرتا ہے اور اس کیلئے بیمار پرندوں سے براہِ راست، قریبی اور طویل رابطہ ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ انڈے اور مرغی کا گوشت کھانا محفوظ ہے۔حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بیمار یا مردہ پرندوں کو ہاتھ نہ لگائیں اور اگر ایک ہی جگہ تین یا اس سے زیادہ متاثرہ پرندے نظر آئیں تو فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔دوسری جانب نیوزی لینڈ کے محکمہ تحفظ ماحولیات نے احتیاطی اقدامات کے تحت ملک کی نایاب ترین نسلوں، جن میں کاکاپو اور تاکاہے بھی شامل ہیں کے 300 افزائشی پرندوں کی ویکسینیشن شروع کر دی ہے تاکہ ممکنہ وبا سے ان کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ماہرین کے مطابق H5 برڈ فلو 2021 سے دنیا بھر میں جنگلی پرندوں اور ممالیہ جانوروں میں پھیل رہا ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں جانور ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ متعدد پولٹری اور ڈیری فارمز بھی متاثر ہوئے ہیں اور بعض فارم ورکرز میں بھی وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔







