پشاور ہائیکورٹ نے یونیورسٹی ٹائون سے لاپتہ 22 سالہ نوجوان کی مبینہ طور پر غیر قانونی حراست کے خلاف دائر درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگر درخواست چاہے تو مقدمے کے اندراج کیلئے مجاز فورم سے رجوع کر سکتے ہیں۔کیس کی سماعت جسٹس اعجازخان صابی نے کی۔تحریری فیصلہ کے مطابق ثاقب اللہ کی مبینہ غیر قانونی حراست کیخلاف درخواست دائر کی گئی جس کے مطابق وہ 5 مئی 2026 کو دوپہر کے وقت لاپتہ ہو ا اور ان کا دعوی ہے کہ نوجوان کو ٹاون پولیس نے حراست میں لیا۔انہوں نے استدعا کی کہ انکے بھائی کی حراست کو غیر قانونی قرار دیا جائے اور اس میں ملوث افراد کیخلاف کارروائی کا حکم دیاجائے۔عدالت نے ایس ایچ او ٹاون مبارک زیب کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا جس نے حلفیہ بیان کیساتھ رپورٹ جمع کرائی اور اس بات کی تردید کی کہ پولیس نے مذکورہ نوجوان کو کسی بھی کیس میں گرفتارکیا یا پولیس کو اس واقعہ کا کوئی علم ہے۔بعدازاں عدالت نے رٹ خارج کرتے ہوئے درخواست گزار کو مناسب فورم سے رجوع کرنیکی ہدایت کر دی۔







