پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کا پاسپورٹ بلیک لسٹ کرنے کیخلاف دائر رٹ جلد سماعت کیلئے مقرر کرنے کی استدعا منظور کرتے ہوئے رٹ 20جولائی کو سماعت کیلئے مقرر کرنے کے احکامات جاری کردیئے ۔گزشتہ روز صوبائی وزیر کی جانب سے دائر ضمنی درخواست کی ،سماعت جسٹس اعجاز خان صابی پر مشتمل بنچ نے کی۔اس دوران صوبائی وزیر کے وکیل بشیر خان وزیر ایڈوکیٹ پیش ہوئے ۔انہوں نے عدالت کوبتایا کہ اسکا موکل سرکاری دورے پر بیرون ملک جانا چاہتا ہے تاہم وفاقی حکومت نے اس کا پاسپورٹ بلاک کررکھا ہے اور نام بلیک لسٹ میں شامل کیا ہے جس کے باعث وہ بیرون ملک سفر نہیں کر سکتے جس کے خلاف انہوں نے عدالت سے رجوع کیا ہے اور عدالت نے متعلقہ اداروں کو ہدایات دی تھیں کہ درخواست گزار کو بیرون ملک جانے دیا تاہم عدالتی احکامات کے باوجود بھی متعلقہ اداروں نے صوبائی وزیر کو ائیر پورٹ پر روک دیا ۔انہوں نے عدالت کوبتایا کہ متعلقہ حکام کی جانب سے جوابات پہلے ہی موصول ہو چکے ہیں جو اس کیس کے فیصلے کے لیے کافی ہیں تا ہم کیس کو ستمبر کے مہینے میں سماعت کے لئے مقرر کیا گیا لہذا استدعا ہے کہ اس کیس کی سماعت جلد کی جائے۔عدالت نے سماعت کے بعد تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ درخواست گزارایک صوبائی وزیر ہیں جس نے اپنے پاسپورٹ کو بلیک لسٹ کرنے کے اقدام کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا ہے کہ اسکے موکل سرکاری دوروں پر بیرونِ ملک کانفرنسوں میں شرکت کرنے جا رہے ہیں جس کے لیے پاسپورٹ کی بحالی فوری ضروری ہے۔عدالت کیس کی اہمیت اور ارجنسی کو دیکھتے ہوئے پہلے سے طے شدہ تاریخ 9 ستمبر کے بجائے 20 جولائی کو رٹ پٹیشن سماعت کے لئے مقرر کرنے کا حکم دیتی ہے۔







