طورخم بارڈر کو فوری طور پر کھولا جائے۔ مجیب شینواری

طورخم بارڈر کلیرنگ ایجنٹس کے صدر مجیب شنواری نے مرکزی اور صوبائی حکومت اور عسکری حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ 10 ماہ سے بندش کے شکار پاک افغان طور خم بارڈر کو ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے فوری طور پر کھولا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور پریس کلب میں بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 ماہ سے پاک افغان بارڈر کی بندش کی وجہ سے مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں کلیرنگ ایجنٹس فوقوں کا شکار ہو گئے ہیں۔ اور کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے لوگ علاقے سے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔مجیب شینواری نے صوبائی، مرکزی اور عسکری قیادت سے مطالبہ کیا کہ پاک افغان بارڈر کی بندش ختم کرنے کے لیے افغانستان سے بامقصد مذاکرات کیے جائیں اور اس مسئلے کا فوری حل نکالا جائے انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں کوئی انڈسٹری نہیں اور اس وقت روزگار نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان منشیات کا شکار ہو رہے ہیں اور خطرہ ہے کہ کہیں وہ دہشت گردوں کی صفوں میں شامل نہ ہو جائیں جو بڑے خطرے کی بات ہوگی کیونکہ بارڈر کی بندش کی وجہ سے سب سے زیادہ نوجوان طبقہ متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کئی مرتبہ وزیراعلی خیبر پختونخواہ سہیل افریدی سے وقت مانگا لیکن ان کے پاس طورخم سے تعلق رکھنے والے ٹرانزٹ کاروبار سے منسلک افراد کے لیے وقت نہیں ہے اور نہ وہ اس طرف توجہ دے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ طورخم بارڈر کو کاروبار کے لیے جلد از جلد کھولا جائے کیونکہ ہم باقاعدگی سے مرکزی اور صوبائی حکومت کو ٹیکس ادا کر رہے ہیں اور اس وقت ہمارے گھروں میں پاک افغان بارڈر بندش کی وجہ سے فاقوں نے ڈیرے جمع ہوئے ہیں۔ مجیب شینواری نے مرکزی اور صوبائی حکومت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ خدارا جنگ اور بارڈر کے کاروبار کو علیحدہ علیحدہ رکھا جائے کیونکہ سال میں ہر مرتبہ امن و امان کے نام پر دو سے چار مرتبہ بارڈر کی بندش ہوتی ہے جس کا زیادہ تر نقصان بارڈر پر مقیم خاندانوں کو ہوتا ہے اور جہاں پر ایک طرف رشتے رک جاتے ہیں وہیں پر ٹرانزٹ کا کاروبار بھی رک جاتا ہے اور اس کا سب سے زیادہ نقصان بارڈر پر مقیم کاروباری خاندانوں کو ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں جہاں بھی جنگیں ہوئیں وہاں پر بارڈر کی بندش دیکھنے میں نہیں ائی۔ مجیب شینواری نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ افغانستان سے جلد از جلد با مقصد مذاکرات کریں اور پاک افغان بارڈر کے مستقل حل کے لیے راستہ نکالا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed