بی آرٹی اکائونٹس سے ٹیکس کٹوتی پر ایف بی آرکونوٹس

پشاور ہائی کورٹ نے بی آر ٹی کے اکائونٹس سے انکم ٹیکس کی مد میں رقوم کی کٹوتی کیخلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ بظاہر فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے برعکس نوٹس جاری کرنے کے فورا ًبعد ریکوری کرکے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی ہے، جس پر توہین عدالت کی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ عدالت نے انہیں ریمارکس کے ساتھ ایف بی آر اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا اور مزید سماعت 28 جولائی تک ملتوی کر دی۔ جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے بی آر ٹی کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی ۔درخواست گزار کی جانب سے ناصر محمود اور شجاع ایڈووکیٹس پیش ہوئے۔ انہوں نے مقف اختیار کیا کہ ایف بی آر نے 16 جون کو بی آر ٹی کے پول اکانٹ سے 20 کروڑ روپے اور بعد ازاں 29 جون کو مزید رقم منتقل کی۔ وکلا کے مطابق یہ رقم بی آر ٹی کے "ذو کارڈ” اور سنگل ٹکٹ سسٹم کے ذریعے وصول ہونے والی عوامی امانت ہے، جسے بغیر قانونی تقاضے پورے کیے منتقل کیا گیا۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ایف بی آر نے نہ تو انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 122 کے تحت کوئی اسسمنٹ آرڈر جاری کیا اور نہ ہی قانونی نوٹس دیا، حالانکہ بی آر ٹی ٹیکس سال 2025 کا ٹیکس پہلے ہی جمع کرا چکی ہے، جسے ایف بی آر نے وصول بھی کیا ہے۔وکلا نے مقف اختیار کیا کہ ایف بی آر نے ایک روز نوٹس جاری کیا اور اگلے ہی روز اکانٹس سے رقوم منتقل کر لیں، جس سے درخواست گزار کو مقف پیش کرنے کا مناسب موقع نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی طرز عمل جاری رہا تو بی آر ٹی کا نظام متاثر ہوگا اور روزانہ سفر کرنے والے لاکھوں شہری مشکلات سے دوچار ہوں گے۔دوران سماعت جسٹس سید ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ کا واضح فیصلہ موجود ہے، جس کے مطابق نوٹس جاری ہونے کے بعد ٹیکس دہندہ کو مناسب وقت دینا لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دن نوٹس جاری کرکے اگلے ہی روز ریکوری کرنا سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے اور ایسے اقدامات توہین عدالت کے زمرے میں بھی آ سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ ایف بی آر سرکاری اداروں کو بھی نہیں بخش رہا ۔ایف بی آر کی جانب سے ایڈیشنل کمشنر ان لینڈ ریونیو طارق داوڑ پیش ہوئے، جنہوں نے مقف اختیار کیا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 140 کے تحت نوٹس جاری ہونے کے بعد فوری ریکوری کی جا سکتی ہے۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ اس تشریح کو پہلے ہی غیر قانونی قرار دے چکی ہے اور مناسب مہلت دینا لازمی ہے۔وفاقی حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل راحت علی نحقی عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے ایف بی آر اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا اور کیس کی مزید سماعت 28 جولائی تک ملتوی کر دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed