پشاور ہائیکورٹ نے ڈبلیو ایس ایس پی کے لاپتہ اہلکار کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر قرار دیا کہ ہوم ڈیپارٹمنٹ تمام ریاستی خفیہ اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مشاورت کے بعد ایک جامع رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں تا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ لاپتہ شخص کس کے پاس ہے یا وہ سرکاری اداروں کے پاس نہیں ہے۔کیس کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس سید ارشدعلی پر مشتمل سنگل رکنی بنچ نے کی۔ عدالت میں درخواست گزار کے وکیل حمادحسین ایڈوکیٹ، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل، ڈپٹی اٹارنی جنرل اور لاپتہ افراد کے فوکل پرسن پیش ہوئے۔ عدالت نے اس حوالے سے تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔ تحریری حکم نامہ کے مطابق درخواست گزار حماد حسین ہائی کورٹ کا وکیل ہے ، درخواست گزار کے بھائی اشفاق حسین لاپتہ ک ہے جبکہ اشفاق حسین ڈبلیو ایس ایس پی پشاور میں بطور ڈرائیور ملازمت کرتے ہیں ۔درخواست گزار کے مطابق انکے بھائی کو مبینہ طور پر محکمہ انسداد دہشت گردی ( سی ٹی ڈی ) نے اٹھایا ہے حالانکہ ان کے بھائی کا نہ تو کوئی سیاسی جماعت سے تعلق ہے اور نہ ہی وہ کسی غیر ریاستی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، تھانہ بھانہ ماڑی کے ایس ایچ او نے اپنی رپورٹ میں لاپتہ شخص کی گمشدگی میں مقامی پولیس کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ لاپتہ شخص کی بازیابی ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے، قطع نظر اس کے کہ وہ کسی حکومتی ادارے کی حراست میں ہے یا نہیں۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ تمام متعلقہ حلقوں سے رپورٹ طلب کریں کہ آیا اشفاق حسین کو کسی مجرمانہ یا غیر ریاستی سرگرمی کے کیس میں مطلوب تو نہیں۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ تمام ریاستی خفیہ اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مشاورت کے بعد ایک جامع رپورٹ عدالت میں جمع کرائے ،کیس کی مزید سماعت 20 جولائی تک ملتوی کر دی جاتی ہے،







