چین کے ایک صنعتی ریگولیٹر نے بدھ کے روز امریکی مصنوعی ذہانت کمپنی اینتھروپک کے کوڈنگ ٹول ’کلاڈ کوڈ‘ میں مبینہ ’سکیورٹی بیک ڈور‘ کی موجودگی سے متعلق صارفین کو خبردار کیا ہے۔
چین کے نیشنل وَلنرایبلٹی ڈیٹا بیس (این وی ڈی بی) کے مطابق یہ مبینہ بیک ڈور سافٹ ویئر کو صارفین کی حساس معلومات، بشمول لوکیشن اور شناخت سے متعلق ڈیٹا، بغیر اجازت اینتھروپک کے سرورز تک منتقل کرنے کی صلاحیت دے سکتا ہے۔
’کلاڈ کوڈ‘ ایک اے آئی کوڈنگ ایجنٹ ہے جو صارف کی ہدایات کی بنیاد پر کمپیوٹر کوڈ تیار کرنے، سافٹ ویئر میں خرابیوں کو دور کرنے اور کوڈ کا جائزہ لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اینتھروپک نے چین اور دیگر ایسے ممالک میں جنہیں وہ اپنا حریف سمجھتا ہے، اپنی مصنوعات تک رسائی محدود کر رکھی ہے، تاہم وی پی این یا تھرڈ پارٹی پراکسی سروسز کے ذریعے ان ٹولز کو استعمال کرنا اب بھی ممکن ہے۔
این وی ڈی بی، جو چین کی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی سے منسلک ہے، نے اپنی ویب سائٹ پر کہا کہ اس نے حال ہی میں اس ٹول میں ’سکیورٹی بیک ڈور کے خطرات‘ کا پتا لگایا ہے جو ’سنگین خطرہ‘ بن سکتے ہیں۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق اینتھروپک نے ان الزامات پر تبصرے کی درخواست کا تاحال کوئی جواب نہیں دیا۔
این وی ڈی بی نے اداروں اور صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر مکمل جانچ کریں اور یا تو سافٹ ویئر کو اَن انسٹال کریں یا اس کے محفوظ ترین نئے ورژن پر اپڈیٹ کریں جس میں مبینہ بیک ڈور کو ختم کر دیا گیا ہو۔
دوسری جانب چینی ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا نے بھی سکیورٹی خدشات کے باعث اپنے ملازمین کو 10 جولائی سے ’کلاڈ کوڈ‘ کے استعمال پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ اینتھروپک اس سے قبل علی بابا پر اپنے اے آئی ماڈلز کی نقل تیار کرنے کا الزام بھی عائد کر چکی ہے۔







