حکومت 47کلومیٹر طویل پشاور،طورخم موٹروے منصوبے کی ازسرِنو تشکیل (ری اسٹرکچرنگ)پر غور کر رہی ہے۔ یہ منصوبہ 46کروڑ ڈالر (تقریبا ً130 ارب روپے)کے عالمی بینک قرض سے تعمیر ہونا تھا، تاہم مسلسل تاخیر، لاگت میں غیر معمولی اضافے اور دیگر انتظامی مسائل کے باعث اس پر پیش رفت نہ ہو سکی۔اس منصوبے کے لیے عالمی بینک کے ساتھ قرض کا معاہدہ دسمبر 2019میں ہوا تھا جبکہ قرض 12 جون 2020 سے مئوثر ہوا اور اس کی تکمیل کی آخری تاریخ 28 مئی 2026 مقرر کی گئی تھی۔ اس کے باوجود منصوبہ تاحال عملی طور پر شروع نہیں ہو سکا اور ضروری دستاویزات بھی مکمل نہیں کی جا سکیں۔یہ بات سینئر کالم نگار، تجزیہ کار اور اباسین کالم رائیٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ضیا الحق سرحدی (ستارہ امتیاز )نے گزشتہ روز میڈیا سے بات چیت کرتی ہوئی کہی ۔انہوں نے کہا کہ پشاورطورخم ایکسپریس وے جو خیبرپختونخوا اکنامک کوریڈور کا حصہ ہے، 47.55کلومیٹر طویل چار رویہ، دوہری شاہراہ پر مشتمل منصوبہ تھا، جسے مستقبل میں پشاور، جلال آباد اور کابل موٹروے سے منسلک کیا جانا تھا۔ابتدائی طور پر اس منصوبے کی لاگت 41.44 ارب روپے رکھی گئی تھی جس میں 55 کلومیٹر طویل سدرن لنک روڈ بھی شامل تھی لیکن بد قسمتی اور محکمے کی نااہلی کی وجہ سے یہ منصوبہ سست روی کا شکار ہو گیا۔یہ لنک روڈ پشاور،طورخم موٹروے کو بڈھ بیر کے مقام پر این55 اور بعد ازاں چمکنی و جھگڑا کے درمیان این5 سے ملاتی،تاہم اب مجوزہ نظرثانی کے تحت سدرن لنک روڈ کو منصوبے سے خارج کر دیا گیا ہے، جبکہ 45کلومیٹر طویل پشاور،طورخم ایکسپریس وے کو تقریبا 14.3، 15 اور 15 کلومیٹر کے تین حصوں میں تقسیم کر کے تعمیر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ ذرائع کے مطابق گزشتہ ماہ سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (CDWP) نے منصوبے کی ری اسٹرکچرنگ اور نئے طریقہ کار کی منظوری کے لیے ورکنگ پیپر کلیئر تیار کیاجبکہ اس دوران منصوبے کی لاگت بڑھ کر تقریبا 130 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔پلاننگ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں منصوبے میں سست روی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA)، وزارت مواصلات، اکنامک افیئرز ڈویژن اور عالمی بینک سمیت تمام متعلقہ اداروں کی استعداد اور کارکردگی پر سوالات اٹھتے ہیں۔ضیا الحق سرحدی جو کہ پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PAJCCI)کے سینئر نائب صدر کے علاوہ سرحدچیمبرآف کا مرس اینڈ انڈسٹری(SCCI)کے ممبر ایگزیکٹو کمیٹی بھی ہیں نے مزید کہا کہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ساڑھے پانچ برس میں منصوبہ عملی طور پر شروع ہی نہیں ہو سکا، جبکہ تخمینہ لاگت سے زیادہ بولیوں کی وجہ سے کئی بار ٹینڈرز بھی منسوخ کرنا پڑے۔دستاویزات کے مطابق منصوبے کا ابتدائی پی سی ون (PCI) ابتدائی ڈیزائن اور 2014 کے این ایچ اے کمپوزٹ شیڈول ریٹس (CSR) کی بنیاد پر تیار کیا گیا تھا، جبکہ اب تفصیلی ڈیزائن پر کام جاری ہے جبکہ ڈیزائن کی تکمیل اور 2025 کے نئے ریٹس کی بنیاد پر نظرثانی شدہ پی سی ون دوبارہ منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ قرض کی مدت میں توسیع کے لیے بھی عالمی بینک سے مذاکرات جاری ہیں۔







