ایڈورڈز کالج پشاور کے پرنسپل پشاور ہائیکورٹ میں طلب

شعیب جمیل

پشاور ہائیکورٹ نے ایڈورڈز کالج پشاورکے اسسٹنٹ پروفیسرز کی ترقی کیس میں دائر توہین درخواست میں قائم مقام پرنسپل شجاعت علی کو 10جون کوذاتی حیثیت میں طلب کرلیاہے ۔کیس کی سماعت پشاور ہائیکو ٹ کے جسٹس اعجاز انور نے کی۔ گزشتہ روز جب کیس سماعت شروع ہوئی اس موقع پر ایڈورڈزکالج پشاور کے اسسٹنٹ پروفیسرز علی اقبال قزلباش ایڈووکیٹ کی تواسط سے دائر توہن عدالت درخواست میں موقف اپنایاتھاکہ مذکورہ اسسٹنٹ پروفیسرزنے گریڈ 19میں عدم ترقی کے خلاف پشاور ہائیکور ٹ میں رٹ دائر کررکھی تھی،جس میں ایڈورڈزکالج پشاور کے پرنسپل ، بورڈز آف گورنرز، وی سی پشاور یونیورسٹی اور سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیاگیاکہ درخواست گزار 2000ء میں گریڈ 17میں بطور لیکچرز کالج میں بھرتی ہوئے ، 2006ء میں انکی گریڈ 18میں ترقی ہوئی تاہم اب یہ گریڈ19میں ترقی کے حقدار ہیں مگر انکو ترقی نہیںدی جارہی ہے ،دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے 21مارچ 2024کو رٹ نمٹاتے ہوئے کالج کے پرنسپل کو مذکورہ اسسٹنٹ پروفیسر ز کی ترقی کا کیس ایڈورڈزکالج پشاور کے بورڈزآ ف گورنرز کو بھجوانے کے احکامات جاری کردیئے تھے ، تاہم اس دوران بورڈز آف گورنرز کے کئی اجلاس منعقد ہوئے مگر ان اجلاسوں میں مذکورہ اسسٹنٹ پروفیسرز کی ترقی کا کیس پرنسپل کی جانب سے نہیںبھجوایاگیا، جس کے خلاف درخواست گزروں نے توہین عدالت کی درخواست دائر کردی۔ جس پر عدالت نے کالج کے قائم قام پرنسپل کو 10 جون کو عدالت میں ذاتی حثیت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed