ایک جماعت کو روک کر دوسروں کو اجازت دینا سیاسی تفریق ہے، اسد قیصر

رہنماء پی ٹی آئی اسد قیصر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ایک سکے کے دو رخ ہیں،ایک جماعت کو روک کر دوسروں کو اجازت دینا سیاسی تفریق ہے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تحریک تحفظ آئین میں شامل جماعتوں کے سیاسی رہنمائوں مصطفی نواز کھوکھر ،سینیٹر فوزیہ ارشد ، نور الحق قادری ودیگرکے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ میں گلگت بلتستان کے الیکشن کیلئے سکردو روانگی کیلئے ایئر پورٹ جا رہا تھا تو سڑک بند تھی، میں سمجھا سیکیورٹی کی وجہ سے راستہ بند ہے، بعد میں مجھے پتہ چلا کہ سڑک میری وجہ سے بند تھی۔انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو گلگت بلتستان جا رہے ہیں، امیر مقام گلگت بلتستان میں ہیں اور دیگر پارٹیز کے لوگ الیکشن مہم کیلئے گلگت بلتستان جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آپ گلگت بلتستان کے الیکشن کو متنازع بنا رہے ہیں، اس طرح الیکشن کرنا ہے تو پھر سلیکشن کر لیں پیسہ الیکشن پر خرچ نہ کریں۔ انہو نے کہاکہ میں قومی اسمبلی کا سابق سپیکر اور موجودہ رکن اسمبلی ہوں، ایک جماعت کو روک کر دوسروں کو اجازت دینا سیاسی تفریق ہے، چیف الیکشن کمشنر تمام جماعتوں کو یکساں مواقع فراہم کریں، بصورت دیگر اپنے عہدے سے مستعفی ہوں۔انہوں نے کہا کہ جنید اکبر کے ساتھ روا رکھا گیا سلوک افسوسناک تھا۔ گلگت بلتستان کے عوام اپنے ووٹ کا درست استعمال کریں اور ووٹ کی حفاظت بھی یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان سیاحتی خطہ ہے جہاں دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں،ہماری حکومت آئی تو گلگت بلتستان کو سیاحتی مقام بنائیں گے۔اس موقع پر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ امیدوار کو الیکشن مہم کا حق نہ ہو تو اس سے بہتر ہے آپ الیکشن نہ کرائیں، آپ الیکشن پر پیسہ نہ خرچ کریں بلکہ فارم 47 پکڑا دیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں سیاسی افہام و تفہیم اس صورتِ حال سے نکلنے کا واحد راستہ ہے اور ایک نیا میثاق ہو جس پر سیاسی جماعتوں کا اتفاقِ رائے ہو۔انہوں نے کہا کہ جب وزیرِاعظم نے مذاکرات کی آفر کی تو تحریکِ تحفظ آئین نے اسے قبول کیا تھا، ان کا خیال تھا کہ اپوزیشن شرائط لگائے گی جبکہ ہم نے وزیرِاعظم کی آفر قبول کی، اب وزیرِ اعظم آفر کر کے 2ماہ سے غائب ہیں۔نور الحق قادری نے کہا کہ اسد قیصر کو گلگت بلتستان جانے سے روکنا پری پول رگنگ کے مترادف ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وہاں وفاداریاں تبدیل کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم گلگت بلتستان کے ووٹر باشعور ہیں اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed