آئی پی پیز کو سالانہ 3400ارب روپے کی ادائیگیاں ،سینیٹ قائمہ کمیٹی میں انکشاف

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کے اجلاس میں نیپرا نے انکشاف کیا ہے حکومت کی جانب سے آئی پی پیز کو کی جانے والی سالانہ ادائیگیاں 3400 ارب تک پہنچ چکی ہیں، قائمہ کمیٹی نے پاور پلانٹس کو کی جانے والی ادائیگیوں سے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے۔اجلاس میں نیپرا حکام نے قائمہ کمیٹی اراکین کو بتایا کہ حکومت آئی پی پیز کو سالانہ 3400 ارب روپے کی ادائیگیاں کرتی ہے۔ فی یونٹ اوسط ٹیرف 36 روپے ہے، جب کہ 18 روپے کیپسٹی پیمنٹس وصول کیے جاتے ہیں۔ڈی جی ٹیرف نیپرا نے مزید بتایا کہ آئی پی پیز کو 1800 ارب سے 2000 تک سالانہ کپیسٹی ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔ اس کیک علاوہ آئی پی پیز کو 700 سے 800 ارب انرجی ادائیگیاں بھی کی جاتی ہیں۔قائمہ کمیٹی نے بریفنگ کے بعد تمام آئی پی پیز کو کی جانے والی انرجی اور کپیسٹی ادائیگیوں کی رپورٹ طلب کی تو ڈی جی ٹیرف نیپرا نے بتایا کہ آئی پی پیز کو سی پی پی اے حتمی ادائیگیاں کرتا ہے، اس لیے انرجی اور کپیسٹی ادائیگیوں کا ڈیٹا سی پی پی اے ہی مہیا کر سکتا ہے۔اجلاس میں سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ 60 فیصد کپیسٹی ادائیگیوں کے ساتھ 1200 ارب کی سبسڈی بھی آئی پی پیز کو دی جاتی ہے۔ جیسے 5 وقت نماز پڑھی جاتی ہے، ایسے پاور پلانٹس کو ادائیگیاں کی جاتی ہیں، اور حکومت کامیابی کے ساتھ مسلسل ایک ہی جگہ ادائیگی کر رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed