سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کے درمیان گورنر ہائوس پشاور میں ہونے والی ملاقات نے صوبے کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔بظاہر صوبائی حقوق اور عوامی مسائل پر ہونے والی یہ ملاقات درحقیقت سیاسی حلقوں میں کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے کیونکہ دونوں رہنما نہ صرف مختلف سیاسی دھڑوں سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ ماضی میں ایک دوسرے کے سخت ترین ناقد بھی رہے ہیں۔ملاقات میں جنید اکبر خان، محبوب شاہ، سلیم الرحمان اور سعیداللہ شاہ بھی شریک تھے۔ ابتدا میں بنوں سانحہ کے شہدا کے ایصالِ ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی جبکہ بعد ازاں صوبے کو درپیش اہم معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں صوبے میں سی این جی اسٹیشنز کی بندش، گندم بحران، این ایف سی ایوارڈ اور ضم شدہ اضلاع کے مسائل پر وفاقی حکومت کے رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔دونوں جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ خیبرپختونخوا کی تاجر برادری، سیاسی قیادت اور عوام میں بڑھتے احساسِ محرومی کو ختم کرنے کیلئے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ فاٹا اور پاٹا میں ٹیکسز، سی این جی اسٹیشنز کی بندش اور تاجروں کو درپیش مشکلات کے حل کیلئے وفاق کو تمام اسٹیک ہولڈرز کا موقف سننا ہوگا۔انہوں نے انکشاف کیا کہ اس حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے بھی بات چیت ہوئی ہے اور انہوں نے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کی اصل اہمیت صرف صوبائی حقوق تک محدود نہیں۔ایسے وقت میں جب تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کے خلاف سخت سیاسی محاذ آرائی میں مصروف ہیں اسد قیصر اور فیصل کریم کنڈی کا ایک ہی میز پر بیٹھنا غیرمعمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔سیاسی حلقے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا پس پردہ مستقبل کی سیاسی حکمت عملی، وفاق اور صوبے کے درمیان ممکنہ مفاہمت یا خیبرپختونخوا کی بدلتی سیاسی صف بندیوں پر بھی بات ہوئی ہے۔مبصرین کے مطابق یہ ملاقات واضح اشارہ دے رہی ہے کہ صوبائی حقوق کے نام پر شروع ہونے والا رابطہ آنے والے دنوں میں خیبرپختونخوا کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرسکتا ہے، اور ممکن ہے کہ صوبے میں نئی سیاسی مفاہمتوں یا غیر متوقع اتحادوں کی بنیاد بھی یہی رابطے بنیں۔







