سابق ایکسین شوکت اللہ شاہ کو بعد از ریٹائرمنٹ گریڈ دینے کا حکم

خیبرپختونخوا سروسز ٹریبونل کی رشیدہ بانو، زیبا رشید اور ایس ایم فرول ثقلین پر مشتمل تین رکنی بنچ نے سابق ایکسئین سی اینڈ ڈبلیو شوکت اللہ شاہ کو بعد از ریٹائرمنٹ گریڈ دینے کے احکامات جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ صوبائی حکومت نے ان کی ترقی سے سے متعلق 2021 میں ورکنگ پیپرز تیارکرنے کیواپس لے کر بدنیتی کا مظاہرہ کیا اس لئے وہ اسی تاریخ سے گریڈ 18 میں ترقی کے حقدار ہیں ۔ دوران سماعت درخواست گزار کی جانب سے ان کے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ ان کے موکل گریڈ 11 میں بطور سب انجینئرز سی این ڈبلیو تعینات ہیں اور انہیں 2016 میں گریڈ 17 میں پروموشن دی گئی چونکہ درخواست گزاروں نے بی ٹیک اونرز کی ڈگری حاصل کی جو بی ایس سی انجینئرنگ کے برابر ہے اور اسی بنیاد پر اس کا اگلے گریڈ میں ترقی بنتی تھی تاہم صوبائی حکومت نے اس ضمن میں 2021 میں باقاعدہ طور پر ان کی ترقی سے متعلق ورکنگ پیپرز تیار کرکے واپس لے لئے ۔انہوں نے عدالت کوبتایا کہ اسی کوالیفیکیشن پر دیگر ملازمین کو ترقی دی گئی مگر موجودہ درخواست گزاروں کو ذاتی عناد اور اپنے حق کے لئے اواز اٹھانے کی پاداش میں ترقی سے محروم کردیا گیا اور ابھی تک وہ عدالتوں کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے عدالت کوبتایا کہ پشاور ہائیکورٹ نے 2023 میں باقاعدہ طور پر محکمہ سی این ڈبلیو کو ہدایت کی تھی کہ مذکورہ کوٹے پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور درخواست گزار کی ترقی کا عمل مکمل کرے مگر اسی دوران چونکہ درخواست گزار ریٹائرڈ ہو گئے تھے تو صوبائی حکومت نے انکی ترقی سے متعلق تمام پرپوزل واپس لے لئے درخواست گزاروں کے مطابق وہ سینئر انجینئر تھے اور ان کی انکی ایکسئین کی پوسٹ پر ترقی ہونا تھی جبکہ وہ اپنے سکیل میں 3 سال تک یہ ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ مگر انہیں اپنے اصل گریڈ سے محروم کیا گیا چونکہ درخواست گزار ریٹائرڈ ہو چکے ہیں اور یہ انکا حق بنتا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی پروفارمہ بنیاد پر ترقی دی جائے تاکہ وہ گریڈ 18 کی مراعات حاصل کرسکیں جو کہ ان کا حق ہے۔جبکہ صوبائی حکومت کے نمائندے نے اپیل خارج کرنے کی استدعا کی ۔بنچ نے سماعت مکمل ہونے پر فیصلے میں قرار دیا ہے کہ درخواست گزار کے وکیل نے جو دلائل دیئے اس سے یہ ثابت ہوتا ہیاور عدالت اس نتیجہ پر پہنچ گئی ہے کہ درخواست گزاروں کو بدنیتی کی بنیاد پر ترقی سے محروم رکھا گیا وہ گریڈ 18 میں ترقی کے لئے 2021 میں اہل تھے جب انکی ریٹائرمنٹ بھی نہیں ہوتی تھی تاہم صوبائی حکومت نے بغیر وجہ بتائے ان کی ترقی سے متعلق ورکنگ پیپرز واپس لے لئے جس سے ان کی حق تلفی اور صوبائی حکومت کی بدنیتی نظر آتی ہے۔ ٹریبونل نے یہ بھی قرار دیا کہ عدالت کے سامنے ایسے آفیسر کی ترقی بھی لائی گئی جو پرانے رولز پر جونیئر ہونے کے باوجود ترقی پا چکا تھا اور رولز میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی چونکہ 2021 میں وہ اسی ترقی کے حقدار تھے اس لئے ٹریبونل یہ قرار دیتی ہے کہ صوبائی حکومت موجودہ درخواست گزاروں کا کیس پی ایس بی کے سامنے رکھے تاکہ انہیں گریڈ 18 میں پرو فارمہ ترقی دی جا سکے اور انہیں انکا حق مل سکے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed