ایران بارودی سرنگوں سے لیس ڈولفنز کو آبنائے ہرمز میں دھماکے کرنے اور اسے کھولنے کے لیے استعمال کرنے کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے۔ یہ آبنائے کئی ہفتوں سے امریکی فوجی ناکہ بندی کی زد میں ہے اور معاشی طور پر مفلوج ہو چکی ہے۔ اگرچہ امریکہ کے ساتھ عارضی جنگ بندی ابھی قائم ہے لیکن ایران میں سخت گیر عناصر کی بڑھتی ہوئی تعداد کا خیال ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے ایرانی تیل کی برآمدات روکنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والا مالی بحران اعلانِ جنگ کے مترادف ہے۔ انہوں نے فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق کسی بھی ممکنہ فوجی کشیدگی میں ایسے ہتھیاروں کا استعمال شامل ہو سکتا ہے جو پہلے کبھی استعمال نہیں کیے گئے تاکہ خطے میں موجود امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔ ان میں بارودی سرنگوں سے لیس ڈولفنز بھی شامل ہیں۔رپورٹس میں بتایا گیا کہ تہران اس آبی گزرگاہ میں آبدوزیں بھیجنے کا سہارا لے سکتا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب پہلے ہی آبنائے سے گزرنے والی اہم مواصلاتی کیبلز کو کاٹنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ اس سے عالمی سطح پر انٹرنیٹ اور مواصلات میں بڑے پیمانے پر خلل پڑ سکتا ہے اور تنا میں مزید شدت آ سکتی ہے۔







