گلیشیئرز کی کٹائی ‘ پشاور ہائیکورٹ نے جواب مانگ لیا

پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا میں گلیشیئرکی کٹائی کیخلاف دائر رٹ درخواست پر کمشنر ہزارہ، ڈپٹی کمشنر سوات، بونیر، اورکزئی اور صوبائی حکومت سے اگلی پیشی پر جواب طلب کرلیا ۔کیس کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور انعام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی ۔رٹ کی سماعت شروع ہوئی تو عدالت میں وکیل درخواست گزار طارق افغان ایڈوکیٹ اور ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پیش ہوئے۔ اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ گرمیوں کے موسم میں پہاڑی علاقوں میں گلیشیئر کی کٹائی ہوتی ہے، جو کہ غیر قانونی ہونے کے ساتھ ساتھ سیلاب کا خطرہ بڑھا دیتا ہے انہوں نے موقف اپنایا کہ گلیشیئرز کی کٹائی سے ماحولیاتی تبدیلی، اور قدرتی ماحول پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں، انہوں نے عدالت کوبتایا کہ ڈپٹی کمشنر چترال اور دیر نے رپورٹ جمع کی ہے اور انہوں نے اپنی رپورٹ میں مانا ہے کہ گلیشئر کی کٹائی ہوتی ہے جبکہ عدالت نے دیگر فریقین سے بھی رپورٹ طلب کی تھی مگر ابھی تک ان کی رپورٹ نہیں ائی، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کوبتایا کہ ہمیں تھوڑا وقت دیا جائے آئندہ سماعت تک رپورٹ جمع کریں گے۔ جس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ اب تو گرمیوں کا سیزن شروع ہورہا ہے، اس کے لئے اقدامات کریں، عدالت نے کمشنر ہزارہ، ڈی سی سوات، ڈی سی بونیر سے آیندہ سماعت تک رپورٹ طلب کرلی اور سماعت ملتوی کردی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed